خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 356

خطبات طاہر جلد ۳ 356 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء کرتا ہے اور کن کو عطا کرتا ہے وہ جن کے بارے میں بار ہا واضح کر چکا ہے کہ ان کے لئے وہ قوی ہے اور عزیز ہے۔تو قوی اور عزیز کی صفات جس مضمون کے ساتھ دہرائی جارہی ہیں ،جس موقعے پر دہرائی جاتی ہیں ان کی یہاں تکرار میں بتا دیا کہ یہاں کون سے بندے مراد ہیں؟ کن کا ذکر ہو رہا ہے اور رزق جن کو عطا ہونا ہے یہ وہی لوگ ہیں جن کو خدا کے نام پر تکلیفیں دی جاتی ہیں جن کو سمجھا جاتا ہے کہ ان کو رزق کے لحاظ سے ذلیل کر دو۔چنانچہ گزشتہ بعض تحریکات کے موقع پر بعض متکبر لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ! ہم تو جماعت کے ہاتھ میں کشکول پکڑا دیں گے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں میں کشکول پکڑا دیا۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رزق اگر خدا کی خاطر چھینا جائے ،اگر خدا کے نام پر کسی بندے کو رزق سے محروم کیا جائے تو اس کو اللہ تعالیٰ قوت دیتا ہے یہ فرما کر اس کو حوصلہ عطا کرتا ہے کہ اللهُ لَطِيفُ بِعِبَادِہ وہ اپنے بندوں کی باریک ترین ضروریات پر ، ان کی دلی کیفیات پر نظر رکھنے والا خدا ہے وہ لازماً ان کو رزق عطا فرمائے گا۔چونکہ یہ سارا مضمون مقابلے کا ہے اس لئے اس کا دوسرا پہلو یہ ہے جہاں یہ چار صفات مومنوں کے لئے اثبات کا پہلو رکھتی ہیں وہاں یہ چاروں صفات مخالفین کے لئے سلب کا پہلو اختیار کر جاتی ہیں یعنی محض خدا اپنے بندوں کے لئے قومی اور عزیز نہیں ہے بلکہ بعض دوسروں کے مقابل پر ان کے لئے قومی اور عزیز ہے جس کا معنی یہ ہے کہ ان کے لئے قومی نہیں رہے گا ، ان کے لئے اپنی قوت کا مظاہرہ نہیں کرے گا ، ان کو اپنی قوت میں سے حصہ نہیں دے گا تو سلب قوت کا معنی پایا جاتا ہے جہاں دشمنوں کا تعلق ہے اور جہاں اپنوں کا تعلق ہے وہاں اثبات قوت کا معنی پایا جاتا ہے۔چنانچہ دوسری آیت میں یہ سارا مضمون مختلف آیات میں مختلف مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے بیان فرمایا گیا ہے۔ایک دوسری آیت میں جو میں نے ابھی تلاوت کی تھی جہاں حضرت صالح" کا ذکر ہے وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صُلِحًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّاوَ مِنْ خِزْيِ يَوْمِيذٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (هود: ۶۷)