خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 355
خطبات طاہر جلد ۳ 355 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء بادشاہ کو ہر قسم کی عزت نصیب ہو بعض عزتوں کا تعلق اموال سے ہوتا ہے۔ایک بادشاہ خواہ کتنا بڑا بادشاہ ہو حکومتیں بعض دفعہ غریب ہوتی ہیں نتیجہ ان کو محتاج ہونا پڑتا ہے دوسروں کا اور جب تک مال کی قوت نصیب نہ ہو مالی لحاظ سے وہ ذلیل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ جنگ کے مواقع پر بڑی بڑی عظیم یورپین قومیں مال کی کمی کی وجہ سے ذلیل ہوئیں اور یہود کے ساتھ ان کو معاہدے کرنے پڑے اور یہ جو اسرائیل کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی ایک محرک یہ بھی تھا کہ اسرائیل کا وعدہ انہوں نے اس بنا پر کیا کہ اپنی جنگ کے لئے یہود سے پیسہ لے کر استعمال کر رہے تھے اگر چہ یہود کو کوئی نقصان نہیں تھا اس پیسہ دینے میں کیونکہ وہ زیادہ بڑھا کر وصول بھی کر رہا تھا لیکن وقت پر جب ضرورت پڑتی ہے تو چاہے سود پر بھی پیسہ ملے انسان زیرا احسان آجاتا ہے۔تو کتنی بڑی بڑی عظیم الشان یوروپین تو میں آپ کے سامنے ہیں جو عزیز تو تھیں ایک پہلو سے لیکن دوسرے پہلو سے عزیز نہیں تھیں اور جس پہلو سے عزیز نہیں تھیں اسی پہلو سے اُن کے لئے آئندہ ذلتوں کے سامان بھی پیدا ہوگئے ، بنیاد میں قائم ہو گئیں ان کے ذلیل کئے جانے کی یعنی ایک ظلم کرنے پر مجبور ہو گئے۔بہر حال عزت کے بہت سے پہلو ہیں تو اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے میں عزیز ہوں تو ایک انسان کی طرح کا عزیز نہیں ہے خدا ، وہ عزت کے ہر پہلو میں عزیز ہے اموال کے لحاظ سے بھی عزیز ہے، دولتوں کے لحاظ سے بھی عزیز ہے، بادشاہتوں کے لحاظ سے بھی عزیز ہے اور ذاتی شرف کے لحاظ سے بھی عزیز ہے چنانچہ قرآن کریم اسی لئے رزق کے تعلق میں بھی عزیز اور قوی کی صفات بیان فرماتا ہے۔اگر صفات باری تعالیٰ کے مضمون پر یکجائی نظر نہ ہو تو انسان حیران ہوتا ہے کہ یہاں رازق کہنے کا تو موقعہ تھا قوی اور عزیز کہنے کا کون سا موقع ہے لیکن جب آپ صفات کی حکمتوں کو سمجھیں تو پھر چابی کی طرح جس طرح چابی سے تالہ کھلتا ہے اس طرح مضمون کھلنے شروع ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ ۚ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (الشورى: ٢٠) کہ خدا کے بعض بندے رزق کی مشکلات میں خدا کی خاطر مبتلا کئے جاتے ہیں ان کا ذکر ہے۔فرماتا ب اللهُ لَطِيفُ بِعِبَادِہ اپنے ان بندوں کی بار یک ضرورتوں پر بھی نگاہ رکھنے والا ہے خدا ، ان کو نظر انداز نہیں کرتا۔يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ رزق تو اس کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے رزق عطا