خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد ۳ 351 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء بھٹک بھی جاتی ہیں راہوں سے تب بھی غلبہ نصیب ہوتا ہے کیونکہ وہ وعدہ جو خدا اپنے رسولوں سے کرتا ہے اس کو کبھی ٹالتا نہیں۔یہ قومی اور عزیز کی جو صفات دہرائی گئی ہیں ہر ایسے موقع پر جہاں رسولوں یا ان کے ساتھیوں کو غلبہ عطا کرنے کا وعدہ ہے، ان کے ساتھ رحمتوں کے وعدے ہیں، ان کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے وعدے ہیں۔ان صفات کے کیا معنی ہیں؟ ان پر ہم کچھ مزید غور کرتے ہیں۔قوی کا مطلب تو عام اردو میں بھی معروف ہے طاقت ور کو قوی کہتے ہیں اور عزیز کو غالب کے طور پر سمجھا جاتا ہے یعنی اس کا ترجمہ جو آپ قرآن کریم میں پڑھیں گے تو ہر جگہ آپ کو غالب ہے، ان معنوں میں اور مضبوط ہے اور طاقت ور ہے ، ان معنوں میں اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں تک قوی کا تعلق ہے صرف اردو میں جس کو قومی کہتے ہیں وہی معنی یہاں چسپاں نہیں ہوتے یا انسان کے تعلق میں جو قوی لفظ سمجھا جاتا ہے وہی معنی خدا کے اوپر چسپاں نہیں ہوتے کیونکہ قوی میں ایک قوت کا استقلال پایا جاتا ہے۔قوی ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کی قوت کی حالت ہمیشہ برقرار رہتی ہے اور جاری رہتی ہے اور دنیا میں کوئی بھی انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کے متعلق یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ اس کی قوت کی حالت میں استقرار ہے اور کبھی اس میں زوال نہیں آسکتا۔وقتی زوال تو بڑے بڑے عظیم الشان جرنیلوں کی قوتوں میں بھی آجاتا ہے۔وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں ، وہ غش کھا کر جا پڑتے ہیں، ان کے قومی معطل ہو جاتے ہیں کچھ عرصے کے لئے یا عموماً آخری عمر تک جا کر انحطاط پذیر ہو جاتے ہیں۔تو کوئی بھی دنیا میں آپ تصور نہیں کر سکتے ایسا وجود جس کے اوپر لفظ قوی اپنی تمام شان کے ساتھ صادق آتا ہو ، وہ ایک ہی وجود ہے یعنی اللہ جل شانہ جس کے متعلق لفظ قوی استعمال ہو سکتا ہے۔اور اسی نسبت سے دوسرے درجہ پر رسولوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے اگر چہ رسولوں پر بھی کمزوری کی حالت آتی ہے لیکن ایک قومی لفظ میں پوٹینشل (Potential) کے معنی بھی پائے جاتے ہیں۔اس لحاظ سے رسولوں کے متعلق ہم قوی کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں کہ چونکہ ان کو غلبہ کا وعدہ دیا گیا ہے اور ایسے قوی کی طرف سے وعدہ دیا گیا ہے جس کی قوت میں زوال کوئی نہیں اس لئے پوٹینشل کے لحاظ سے بالقویٰ وہ قوی ہی رہتے ہیں مگر اول طور پر لفظ قوی بہر حال اللہ ہی کی ذات اور اس کی شان کے بارے میں استعمال ہو سکتا ہے۔