خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 350

خطبات طاہر جلد ۳ 350 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء تعالی کی صفت قومی اور صفت عزیز کو دہرایا گیا ہے ان آیات میں اور بار بار ایک خاص مضمون کے تعلق میں ان صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔پہلی آیت جو میں نے پڑھی اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر فرض کر لیا ہے لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىی کہ یقیناً میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے اور اغل بن میں بھی ایسی شدت کے ساتھ غلبہ کا اظہار فرمایا گیا ہے کہ اس سے بڑھ کر شدت سے غلبہ کا اظہار عربی زبان میں ممکن نہیں۔اول تو لفظ کتب حد سے زیادہ زور دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اس سے اوپر عربی زبان میں کوئی لفظ نہیں ہے زور کا کہ خدا نے فرض فرما لیا ہے اپنے اوپر اور پھر لاغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِی میں نون ثقیلہ استعمال فرمایا جس کا مطلب ہے کہ لازماً یہ ہوکر رہے گا اس کے سوا کچھ ہو نہیں سکتا۔تو خدا جو دوسروں پر کچھ فرض فرماتا ہے اس موقع پر اپنے پر بھی کچھ فرض فرمارہا ہے اور کن لوگوں کے لئے اپنے اوپر فرض فرما رہا ہے؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا کے عائد کردہ فرائض کا حق ادا کرتے ہیں اس لئے اس موقع پر ڈسلی کا لفظ استعمال فرمایا اور باقیوں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ رسول خدا کے بندوں میں سے وہ ہیں جو خدا کے عائد کردہ تمام فرائض کو ان کے حق کے مطابق ادا کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اللہ اپنے اوپر ایک بات فرض کر لیتا ہے ان کے لئے کہ یہ وہ بندے ہیں جو ضائع نہیں کئے جائیں گے، لازماً ان کو غلبہ نصیب کیا جائے گا اور آنا کہہ کر ساتھ رُسُلِی کو شامل کرنا بہت ہی عظیم الشان اعزاز ہے جو ان کو بخشا گیا ہے۔پس غلبہ تو لازماً عطا ہوتا ہے اور خدا کے رسولوں کو عطا ہوتا ہے لیکن وہ جو ساتھ چلنے والے ہوتے ہیں وہ غلامان در جو گرتے پڑتے اس قافلے میں شامل ہو جاتے ہیں اور خواہ حق ادا نہ بھی کر سکیں حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی فیض پا جاتے ہیں اور ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ بظاہر رسول تو موجود نہیں ہوتے لیکن ان کے ماننے والوں کو غلبہ عطا ہو رہا ہوتا ہے۔بڑے ہی بیوقوف ہوں گے وہ جو یہ سمجھتے ہوں کہ ہماری طاقت سے ہمارے اعمال صالحہ کے نتیجہ میں غلبہ عطا ہوا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب خدا رسالت کو جاری فرماتا ہے اس وقت یہ تقدیر لکھی جاچکی ہوتی ہے کیونکہ کتب میں ایک معنی لکھے جانے کا بھی ہے۔مراد یہ ہے کہ آج لکھ دیا گیا ہے جب میں نے بھیجا ہے کسی کو اور اس کی خاطر لازما میں غالب کر کے دکھاؤں گا بلکہ یہاں تک کہ بعض اوقات قو میں