خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 328

خطبات طاہر جلد۳ 328 خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۸۴ء قربانیاں دی ہیں اشتراکیت کے لئے لیکن جب اس نے اشتراکیت کو حاصل کیا یعنی اشتراکیت کے پھل کو تب اس کو محسوس ہوا کہ یہ تو کڑوا پھل ہے۔بہر حال چرچل نے اس کو تسلی دینے کے لئے کہا اس نے خود اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ دیکھورا تیں آیا کرتی ہیں اور دیکھو روم کی ایمپائر جب ختم ہوئی تھی تو پھر ایک رات ہی آئی تھی نا اب دیکھو یورپ کی روشنی اسی رات میں سے پیدا ہوئی ہے تو یہ ہوتارہتا ہے ہم اتنے مایوس نہ ہو روس بھی اسی طرح صبح کا منہ دیکھ لے گا تو ٹراٹسکی نے اس کو جواب دیا کہ ہاں مجھے علم ہے لیکن مجھے یہ بھی علم ہے کہ روم کا سورج جب غروب ہوا تھا تو ایک ہزار سال کی رات تھی جس کے بعد پھر دوبارہ سورج طلوع ہوا ہے یورپ پر تو کیا تم مجھے یہ خوش خبری دے رہے ہو کہ روس کے لئے ایک ہزار سال کی رات مقدر ہو چکی؟ یہ تو کوئی خوش خبری خوش خبری دے رہے ہو ؟ نہیں۔تولیلۃ کا زمانہ بڑا لمبا بھی ہو جاتا ہے، اتنا لمبا کہ بعض تو میں جن کا کوئی پرسان حال نہ ہو ان کی ایک رات ہزار سال کی رات بھی بن جاتی ہے مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایسی راتیں بھی آتیں ہیں اور وہ لیلۃ القدر ہے جن میں خدا کے کچھ بندے ایسے ہیں جو ان راتوں کو تبدیل کر دیا کرتے ہیں اپنی گریہ وزاری کے ساتھ ، اپنی عبادتوں کے ساتھ۔ایسی ہی ایک رات آئی تھی جب محمد مصطفیٰ ظاہر ہوئے تھے ، یہ آپ کی گریہ وزاری تھی ، یہ آپ کی غار حرا کی عبادتیں تھیں جنہوں نے وہ سورج طلوع کیا جو ہزار ہا راتوں سے بڑھ کر اہم تھا اور جس کا زمانہ نہ ختم ہونے والا زمانہ ہے پس آلف جو ہزار مہینوں کا ذکر ہے یہ وہ عام ہزار مہینے نہیں ہیں بلکہ ہزار کا لفظ جب انسانی زندگی پر بولا جاتا ہے تو یہ معنے ہوں گے کہ پوری انسانی زندگی سے بڑھ کر ہے وہ رات لیکن جب قومی زندگی پر اطلاق پائے گا تو مرادصرف یہ ہوگی کہ نہ ختم ہونے والا ایک دن آنے والا ہے، ایسا دن جو پھر کبھی غروب نہیں ہوگا اور اس لئے ہوگا کہ فرشتے نازل ہو رہے تھے کسی کی بے قراری کو دیکھ کر یعنی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کے لئے اور وہ تسلی یہ دے رہے تھے کہ فکر نہ کرو روشنی کا زمانہ بہت دور نہیں ہے تم عنقریب سورج کو طلوع ہوتے دیکھو گے اور یہاں جس سورج کی خوش خبری دی جارہی تھی عجیب لطف کی بات ہے کہ ایک پہلو سے وہ خود حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی تھے کہ اس رات میں سے تو تو طلوع ہونے والا ہے تجھے کیا غم تو نے ہی دنیا کو اجاگر کرنا ہے اور ان کے اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنا ہے۔تو یہ جو