خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 292

خطبات طاہر جلد ۳ 292 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء اس لحاظ سے تو امید نظر آرہی ہے کہ انشاء اللہ بہت جلد یہ ٹارگٹ پورا ہو جائے گا کیونکہ پانچ لاکھ کے لگ بھگ تو چندوں کے وعدے آچکے ہیں اور زیورات کی قیمتیں لگ کر ابھی ان کو اس میں داخل کرنا باقی ہے تو بہر حال جو بھی اللہ تعالیٰ عطا فرمائے اس کے بہترین مصرف کی توفیق عطا فرمائے اور جو ہم عمارت خریدیں اس کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسے اسلام کی خدمت میں ، ہر ہر اینٹ اس کی اسلام کی خدمت میں استعمال ہو ہر ہر کو نہ اس کا ، ہر سائے کی جگہ، ہر دھوپ کی جگہ، اندر اور باہر اللہ کی برکتیں اس پر نازل ہوں اور قیامت تک کے لئے وہ عمارتیں ان لوگوں کے لئے دعا بن جائیں جنہوں نے ان کی خرید میں قربانیاں پیش کی ہیں اور ان کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔تو ایک ہم عمارت کا جائزہ لینے آج جائیں گے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے جرمنی کو بھی ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد جائزہ لیں۔تو دشمن تو ہمیں مارنے کے منصوبے بنا رہا ہے ہمیں کچھ اور نظر آرہا ہے۔بالکل الٹ نتائج ظاہر ہورہے ہیں۔زیادہ قوت، زیادہ شان کے ساتھ جماعت آگے بڑھ رہی ہے اور تمام دنیا سے میرا ارادہ ہے اور ایک حصہ اس کا پورا بھی ہو چکا ہے کہ باری باری مختلف جگہوں سے وفود منگوا کر ان سے ان کے علاقوں میں خصوصی تبلیغ کی مہم تیز کرنے کے لئے مشورے ہوں گے اور پھر ان منصوبوں پر عمل درآمد ہوگا۔چنانچہ ایک وفد حال ہی میں رخصت ہوا ہے ابھی ، تقریباً ہفتے سے زائد انہوں نے یہاں قیام کیا ان سے بڑی تفصیلی گفتگو ہوئی اور نہایت ہی مفید مشورے ہوئے ایسے ایسے Avenues، ایسے ایوان کھلے کاموں کے کہ پہلے اس کی طرف تصور بھی نہیں جا سکتا تھا۔تو اس طرح مختلف جگہوں کے بعض جگہ دورہ کرنا ہے ، بعض جگہ لوگوں کو یہاں بلوانا ہے تو میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح ہمیشہ دشمن کو اس کی مخالفت اس کی توقع سے بہت زیادہ مہنگی پڑی ہے یہ مخالفت، اتنی مہنگی پڑے گی اتنی مہنگی پڑے گی کہ نسلیں ان کی پچھتائیں گی جو دشمن رہیں گی اور آپ کی نسلیں دعائیں دیں گی ایک وقت آکر ان لوگوں کو جن کی بے حیائی کے نتیجہ میں اللہ نے اتنے فضل ہمارے اوپر فرمائے ہیں۔ایک یہ بھی طریق ہوتا ہے جواب کا کہ ہم دعا دیتے ہیں ظالم تجھے کہ تیرے ظلم کے نتیجہ میں اتنے فضل خدا نے ہم پر نازل فرما دیئے۔چنانچہ ایک دفعہ ایسا ہی واقعہ گزرار بوہ میں، ایک پرانے زمانے کی بات ہے یعنی اتنی پرانی