خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 261

خطبات طاہر جلد ۳۔261 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء دوسرا ہمیں تبلیغ سے روکا جا رہا ہے اس لئے ظاہر بات ہے کہ الٹ رد عمل ہوگا۔رد عمل تو کہتے ہی اس بات کو ہیں کہ کوئی چیز جس طرف سے رو کے اس کے مخالف ایک قوت پیدا ہو جائے اور یہی زندگی کی ایک نشانی ہے اس لئے ہم تو زندہ قوم ہیں اللہ کے فضل سے ہمیں تو جس سمت میں تم روکو گے اس سمت میں آگے بڑھیں گے اپنے رب کے فضل کے ساتھ اور اس کی نصرت کے ساتھ اس لئے تبلیغ کو پہلے سے کئی گنا زیادہ تیز کر دیں۔مجھے علم ہے کہ پہلے سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ تبلیغ میں مصروف ہیں۔کئی نوجوان بھی ہیں ہمارے ہاں اس وقت اس جمعہ میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں کہ ایک ہندو سے مسلمان ہونے والے نوجوان جنکو احمدی نوجوانوں نے تبلیغ کی ہے عیسائیوں سے بھی انفرادی تبلیغ کے نتیجہ میں مسلمان ہورہے ہیں، قادیان سے خبریں آرہی ہیں اور سارے ماحول میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔ہندوستان کے بعض علاقوں میں ایسی تبدیلی پیدا ہورہی ہے کہ جہاں پارٹیشن سے لے کر اب تک پندرہ سو ایک جگہ احمدیوں کی تعداد تھی اب پچھلے چند مہینوں میں وہاں ڈھائی ہزار نئے احمدی شامل ہو چکے ہیں ان میں اور سارے پنجاب میں ایک تبدیلی واقع ہورہی ہے اس لئے کہ انہوں نے انفرادی تبلیغ پر زور دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی کوششوں سے بہت ہی زیادہ غیر معمولی طور پر پھل نصیب ہوئے۔تو ہر جگہ ہر مذہب میں ہر طبقہ فکر میں تبلیغ کو تیز کرنا ہے اور انفرادی تبلیغ پر زور دینا ہے اور ہر احمدی عہد کرے کہ اب میں نے اگر پہلے ایک بنانا تھا تو اب پانچ بناؤں گا اور اگر اور زور ڈالیں گے کہ تبلیغ بند کرنی ہے تو پھر میں دس بنا کے دکھاؤں گا اور اللہ کے فضل سے جب آپ خدا کی خاطر یہ عہد کریں گے تو خدا پورا کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے گا اور اس میں ہر طبقہ کے احمدی کو شامل ہونا ضروری ہے۔ہمارے اندر کوئی چوہدریوں کا طبقہ نہیں ہے کہ وہ سمجھیں کہ ہم چونکہ بڑے لوگ ہیں اس لئے ہم تبلیغ نہیں کر سکتے ، ہم اپنے طبقے میں شرماتے ہیں تبلیغ کرنے سے یہ تو درمیانے لوگوں کا کام ہے۔اگر یہ درمیانے لوگوں کا کام ہے تو درمیانوں کو خدا بڑا کرے گا اور ان کو چھوٹا کر دے گا جو اپنی بڑائی کی وجہ سے تبلیغ سے باز رہتے ہیں، خدا کی خاطر تبلیغ سے شرمانا! کون ہے جو خدا کے حضور بڑا ہوسکتا ہے؟ وہی جو خدا کے حضور گرنا جانتا ہو اس لئے ہر گز کوئی خیال نہیں کرنا کہ میں کس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں؟ لوگ کیا کہیں گے یہ سیاست دان تھا، اتنا بڑا سائنس دان تھا، یہ اتنا بڑا بیوروکریٹ تھا، اس