خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 237

خطبات طاہر جلد ۳ 237 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۸۴ء معجزے دکھایا کرتے ہیں، خدا خود ظاہر ہو جایا کرتا ہے، آسمان سے خود اترا کرتا ہے ان بندوں کے لئے اس لئے آخری اور سب سے اہم یہ پیغام ہے کہ اپنے بھائیوں کے لئے بالخصوص جو پاکستان میں بے انتہا مظلومیت کی حالت میں دن گزار رہے ہیں کثرت سے دعائیں کریں، کثرت سے دعا ئیں کریں، ان کے لئے تڑپیں تا کہ اللہ کی رحمت جلد وہ اپنی آنکھوں کے سامنے نازل ہوتا دیکھیں۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: ابھی نماز کے بعد ایک شہید احمدیت کا جنازہ بھی پڑھایا جائے گا۔جو ( محترم قریشی عبدالرحمن صاحب ہمارے سکھر کے امیر تھے۔75 سال ان کی عمر تھی اور موتیا کی وجہ سے وہ ایک دو گز سے زیادہ دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔جس رات ان ظالموں نے آکر مسجد کا لفظ مٹایا ہے اس رات بہت دیر تک وہ اکیلے بیٹھے رہے۔جب سب نمازی چلے گئے اور وہ خود خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے رہے اور جب واپس گئے تو بھرے بازار میں چار پانچ آدمیوں نے چاقو مار مار کے، اُن میں سے ہر ایک نے حصہ لیا اور انہیں وہیں موقع پر شہید کر دیا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے کیا دعا کی تھی شاید یہی دعا قبول ہوئی ہو لیکن بہر حال وہ نعرے لگاتے رہے اللہ تعالیٰ کی تکبیر بلند کرتے رہے کہ خدا نے ہمیں اس ظلم کی توفیق بخشی ہے۔ان کا جنازہ ہوگا سب سے اول اور سب سے اہم اس کے بعد چوہدری علی قاسم انور صاحب ہمارے نائب امیر بنگلہ دیش کے، وہ بڑے مخلص فدائی سلسلہ کے کارکن تھے اچانک ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ وفات پاگئے ہیں۔ایک ہمارے نوجوان انگلستان کی جماعت کے وہ بھی اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے وفات پاگئے ہیں ابرار احمد صاحب قریشی ان تینوں کا جنازہ ہوگا نماز جمعہ کے معاً بعد اس لئے نماز جمعہ کے بعد احباب باہر تشریف لے جائیں۔ایک جنازہ سامنے موجود ہے اس کو تو سامنے رکھنا ہے تو جب صف بندی ہو جائے گی تو میں بھی آجاؤں گا۔