خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 18

خطبات طاہر جلد ۳ 18 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۴ء یہ دوشرطیں بھی باقی نہیں رہتیں بعض دفعہ، جہاں معاف کرنے والا کسی کو معاف کرتا ہو اور اس کے نتیجہ میں وہ غیروں کے اوپر کوئی ظلم نہ کر سکے، معاف کرنے والے کو مزید دکھ دے وہاں یہ شرط نہیں ہے کہ ضرور اصلاح ہو۔وہاں جتنا بھی دکھ برداشت کر سکتا ہے معاف کرنے والا وہ کرتا چلا جائے اس کا اجر خدا تعالیٰ اس کو دیتا چلا جائے گا۔توعَفَا وَأَصْلَحَ میں یہ تیسری بات بھی خاص طور پر پیش نظر رکھیں، ایک سوسائٹی کا مجرم ہے اس کو معاف کرنے کے لئے آپ مالک نہیں ہیں اس لئے آپ پابند ہیں کہ اصلاح کو ملو ظ رکھیں اور یہ نہ ہو کہ معاف کیا جانے والا بعد میں دندناتا پھرے اور کہے کہ دیکھو جی یہاں کچھ نہیں بنتا کچھ نہیں ہوتا اور دوبارہ جرم پر اس کا حوصلہ بڑھ جائے۔لیکن اگر آپ کے خلاف کسی نے زیادتی کی ہے، آپ کے خلاف جرم کیا ہے تو وہاں یہ شرط لازمی نہیں ہے آپ جتنا معاف کر سکتے ہیں جتنا آپ میں حوصلہ ہے اتنا ہی اس کے ساتھ شفقت اور رافت کا سلوک کرتے چلے جائیں اور عفو سے کام لیں۔آنحضرت ﷺ نے ان آیات کی جو عملی تفسیر فرمائی اس سے یہی معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں جتنی مصیبتیں ہیں ان کا ایک بہت بڑا حصہ عفو کی کمی کی وجہ سے ہے اور جرائم کی حوصلہ افزائی کے نتیجہ میں مصیبتیں پھیلتی ہیں اور تمہارے جرائم اگر سارے کے سارے اس طبعی نتیجہ تک پہنچیں جس تک جرم کو پہنچنا چاہئے یعنی تم سزا پاؤ اس کے نتیجہ میں دکھ اٹھاؤ تو بے انتہا مصائب سے دنیا بھر جائے۔یہ اللہ تعالیٰ کا عفو ہے۔کہ تمہارے بہت سے جرائم ایسے ہیں جن سے وہ صرف نظر فرما تا چلا جاتا ہے اور تم ان کا لازمی طبعی نتیجہ نہیں دیکھتے۔اپنے جرموں کی سزا سے بچ جاتے ہو اور اس کے نتیجہ میں سوسائٹی میں اتنے دکھ نہیں ہیں جتنے تمہیں نظر آرہے ہیں۔تو گویا جو کچھ تم دیکھ رہے ہو دکھوں کی شکل میں نہ صرف یہ کہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، بلکہ ساری کمائی نہیں اس کا محض ایک حصہ ہے۔اگر تمہارے جرائم کی سب کی سزا دی جائے تو انسان کا اس دنیا میں زندہ رہنا مشکل ہو جائے بلکہ قرآن کریم سے تو پتہ چلتا ہے کہ جانور بھی زندہ نہ رہ سکیں ، دآبۃ بھی اس دنیا سے مٹا دیئے جائیں اگر انسان کے جرائم کو دیکھا جائے (فاطر: ۴۶) کیونکہ دابة تو انسان کی خاطر پیدا کئے گئے ہیں۔اگر انسان نے ہی زندہ رہنے کا حق چھوڑ دیا تو اس کی خاطر جو چیزیں پیدا کی گئی ہیں ان کے زندہ رہنے کا بھی کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔