خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 210

خطبات طاہر جلد ۳ 210 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۸۴ء بارہا یہ مثال دیا کرتے تھے اور وہی مثال صادق آتی ہے اس آیت پر۔ایک ولی کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ہر روز رات کو تہجد میں ایک دعاما نگا کرتا تھا اور ہر روز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو آواز آیا کرتی تھی کہ ہم نے تیری دعا قبول نہیں کی۔اس کا ایک مرید تھا جو اس کے ساتھ کھڑا ہوا کرتا تھا۔چند دن اس کو بھی یہ آواز آئی، بعض الہامات میں ساتھیوں کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔چنانچہ یہ تو آنحضرت ﷺ سے بھی ثابت ہے کہ وحی قرآن کے وقت بعض دفعہ کاتبوں کو بھی وہی لفظ سنائی دیئے۔(سیرۃ الحلبیہ جلد سوم نصف آخر زیر فتح مکه صفحه: ۲۷۶،۲۷۵) بہر حال اسکو بھی یہ آواز آتی تھی کہ یہ دعا کر رہا ہے میرا پیر اور اللہ کہتا ہے کہ تیری دعانا مقبول۔چند دن میں وہ تھک گیا اور بیزار ہو گیا اور اس نے اپنے پیرومرشد سے عرض کی کہ یہ کیا حالت میں دیکھ رہا ہوں روزانہ اللہ تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے کہ میں نے رد کر دی ہے آپکی دعا اور روزانہ اٹھ کر پھر وہی دعا شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تم اتنی جلدی تھک گئے ہو میں بارہ سال سے یہ دعا کر رہا ہوں اور میں نہیں تھکا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ مالک ہے اور میں فقیر ہوں۔فقیروں کا کام مانگنا ہے اور مالک کا کام ہے چاہے تو دے اور چاہے تو نہ دے اس لئے میں تو بہر حال اپنی عبودیت کی حالت کو قائم رکھوں گا اور مانگتا چلا جاؤں گا۔جب اس نے یہ فقرہ کہا تو اس وقت اس کو الہام ہوا کہ اے میرے بندے میں نے تیری یہ دعا بھی قبول کر لی ہے اور اس عرصہ میں تو نے جتنی دعائیں مانگی ہیں وہ ساری قبول کر لی ہیں۔یہ معنی ہیں اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلوۃ کہ تم اپنی دعاؤں سے عاجز نہ آجانا ، اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جانا کہ خدا تعالیٰ سن نہیں رہا۔بعض دفعہ وقتی طور پر بعض کمزور انسانوں پر اندھیروں کا وقت آجاتا ہے اور وہ قومی مصالح کو سمجھ نہیں رہے ہوتے۔وہ بھول جاتے ہیں اس آیت کے مضمون کو کہ کچھ نہ کچھ ان کے اوپر تولا زماً مصیبت پڑنی ہے۔ساری قوم بحیثیت قوم نہیں بچائی جاتی بعض افراد کو قربانی دینی پڑتی ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں غلطی سے کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔تو اللہ تعالیٰ شروع میں ہی ان کو بتا دیتا ہے کہ تم نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔چنانچہ پہلی آیت میں جو دو چیزیں بیان فرمائی گئیں آخر پر وہی دو نتائج پیدا کئے گئے ہیں اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلوۃ میں صبر کی تلقین فرمائی اور صلوٰۃ کی تلقین فرمائی اور نتیجہ کیا نکالابشِّرِ الصّبِرِینَ کہ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو خوشخبری دے دے دے اے محمد