خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد ۳ 197 خطبه جمعه ۶ راپریل ۱۹۸۴ء اس ایک فقرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقصد بھی بیان فرما دیا ہے اور طریق کار بھی واضح کر دیا ہے۔فرمایا میرا مقصد تو یہ ہے کہ خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف بنی نوع انسان کو کھینچوں اور میرا طریق کار یہ ہے کہ حلم کے ساتھ ، خلق کے ساتھ اور نرمی کے ساتھ یہ کام سرانجام دوں لیکن آپ جانتے تھے کہ اس کے باوجود جیسا کہ ہمیشہ سے مقدر ہے خلق اور حلم اور نرمی کا جواب سختی اور ظلم اور ستم کے ساتھ دیا جائے گا اور نرمی سے اپنی طرف بلانے کی بجائے جبر کے ساتھ اپنی طرف بلایا جائے گا تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو تسلی دی وہ آج میں بھی آپ کو تسلی دلاتا ہوں۔کیونکہ خدا کا یہ کلام غیر مبدل اور اٹل ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے لئے ہمیشہ کے لئے خدا کا یہ کلام زندہ رہے گا اور قائم رہے گا اور کوئی نہیں ہے جو اس کو بدل سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائیگا اور وہ میرے سلسلہ کو تمام زمین پر پھیلائے -"B پھر آپ فرماتے ہیں: اور یہ یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے مگر خداسب کو درمیان سے اٹھا دے گا“۔تجلیات الہی روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه: ۴۰۹) مقصد کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریق کیا ہے؟ یہ خوب کھول دیا ہے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں اور دشمن جب ڈرائے گا تو حوصلہ نہیں چھوڑ نا دعائیں کرنی ہیں اور یقین میں ادنی سا بھی تزلزل نہیں آنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غالب کرنے کے لئے پیدا فرمایا ہے۔زمین کے چپے چپے پر اسلام کو غالب کرنے کے لئے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔یعنی روحانیت کے زور سے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کی طاقت کے ساتھ دلوں پر غلبہ نصیب ہوتا ہے ہمیں، حکومتوں پر غلبہ نہیں،انسانوں کے قلوب پر غلبہ ہونا