خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 170
خطبات طاہر جلد ۳ 170 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء قیمت پر ایک لمحہ کے لئے بھی مومن اپنے مقصد سے باز نہیں رہ سکتا۔ہاں وہ حلیم ہے، وہ صاحب رشد ہے، وہ شتاب کا رنہیں ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کے مقصد کو کیا چیز زیادہ فائدہ پہنچائے گی اور اس کے نتیجہ میں اس کے عمل میں اور اس کی کوششوں میں ایک ملائمت ، ایک تہذیب داخل ہو جاتی ہے، انسانیت آجاتی ہے، وہ حیوانیت کا مقابلہ حیوانیت سے نہیں بلکہ انسانیت سے کرتا ہے اور یہ ساری چیز میں حلم ہمیں سکھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حلم کے ایک بہت ہی بلند مقام پر فائز فرمائے گئے تھے، صرف کہتے نہ تھے بلکہ وہی عمل بھی تھا آپ کا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک روز ایک ہندوستانی جس کو اپنے علم پر بڑا ناز تھا اور اپنے تئیں جہاں گرد اور سردو گرم زمانه دیده و چشیدہ ظاہر کرتا تھا مسجد میں آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے آپ کے دعوی کی نسبت بڑی گستاخی سے باب کلام وا کیا ، نہایت ہی بدتمیزی اور بدخلقی سے سوال شروع کیا آپ کے دعوی کے متعلق اور تھوڑی گفتگو کے بعد کئی دفعہ یہ کہا کہ آپ اپنے دعوئی میں کا ذب ہیں جھوٹے ہیں اور میں نے ایسے مکار بہت سے دیکھے ہوئے ہیں اور میں تو ایسے کئی بغل میں دبائے پھرتا ہوں۔غرض ایسے ہی بے باکانہ الفاظ کہے مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا، بڑے سکون سے سنتے رہے اور پھر بڑی نرمی سے اپنی نوبت پر کلام شروع کیا۔اس کو کہتے ہیں مجسمہ حلم۔تو اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کوحلم عطا فرمائے اور خدا تعالیٰ سے رنگ سیکھنے کی توفیق بخشے اس کی اپنی صفات کے کیونکہ اگر ہم خدا کے رنگ اللہ سے سیکھ جائیں۔قرآن اور رسول سے سیکھ جائیں اتنی عظیم الشان طاقت دنیا میں بن جائیں گے اور ایسی ہمیشگی ہمیں نصیب ہو جائے گی کہ ہمارے مقدر میں ملنا ہو ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے ساری کائنات مٹ جائے مگر احمدیت نہیں مٹے گی اگر خدا کے رنگ میں رنگین ہو جائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: پہلے میں کئی بار احباب جماعت کو توجہ دلا چکا ہوں کہ افریقہ کے ممالک کے لئے دعا کریں وہاں بارش کی کمی کی وجہ سے انسانیت بہت ہی دکھوں میں مبتلا ہے یعنی انسان جو افریقہ میں بس رہا ہے بہت مصائب کا شکار ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور اس کے بعد اچھی اچھی خبریں آئیں اور