خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 11
خطبات طاہر جلد ۳ 11 خطبہ جمعہ ۶ /جنوری ۱۹۸۴ء وَبَذَلُوا أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ لا شَاعَةِ دِينِ اللَّهِ وَكِتَابِهِ الْأَزْكَى ـ فَانْتُمُ الْمَخْصُرُ صُونَ بِتِلْكَ الْفَضّآئِلِ وَ مَنْ لَّمْ يُكْرِ مُكُمُ فَقَدْ جَارَ وَاعْتَدَى آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه : ۴۱۹ - ۴۲۲) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے خالص عربوں کے اصفیا واتقیا! تم پر سلام ہو۔اے ارض نبوت کے رہنے والو اور عظیم بیت اللہ کے پڑوسیو! تم پر سلام ہو۔تم اسلام کی امتوں میں سے بہترین ہو اور اللہ عزوجل کی جماعت کے بہترین لوگ ہو۔کوئی قوم تمہاری شان تک نہیں پہنچ سکتی۔تم شرف، بزرگی اور مرتبہ میں بڑھے ہوئے ہو اور تمہارے لئے یہ فخر ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم سے وحی شروع کی اور اس نبی ﷺ پر ختم کی جو تم میں سے تھا اور تمہاری زمین اس کا وطن تھا اور اس کا ماً وی اور مولد تھا۔اور تمہارے لئے یہ فخر کافی ہے جو تمہیں اس نبی محمد مصطفیٰ سید الاصفیاء اور فخر الانبیاء اور خاتم المرسلین اور امام الورای کی وجہ سے ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے میرے اللہ ! زمین کے قطرات اور ذرات اور زندوں اور مردوں اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور ہر ظاہر و باطن کے شمار کے مطابق رحمت اور سلامتی اور برکت نازل فرما حضرت محمد مصطفی عملے پر اور ہماری طرف سے ایسی سلامتی بھیج جو آسمان کی اطراف کو بھر دے۔خوشخبری ہے اس قوم کے لئے جو محمد مے کی غلامی کا طوق اپنی گردن میں اٹھاتی ہے اور خوشخبری ہے اس دل کے لئے جو اس کے حضور تک پہنچ گیا اور اس سے جاملا اور اس کی محبت میں فنا ہو گیا۔اے اس زمین کے رہنے والو! جس پر محمد مصطفی ﷺ کے قدم پڑے اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، تم سے راضی ہو اور تمہیں خوش رکھے۔تمہارے بارہ میں میری رائے بہت بلند ہے اور میری روح میں تم سے ملاقات کے لئے پیاس ہے۔اے اللہ کے بندو! میں تمہارے ملک اور تم لوگوں کی برکات دیکھنے کا بہت شوق رکھتا ہوں تا کہ میں خیر الوری ﷺ کے قدموں کے پڑنے کی جگہ کی زیارت کروں اور اس مٹی کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناؤں اور اس کی بھلائی اور اس کے اچھے لوگوں کو دیکھوں اور اس کے نشانات اور علماء سے ملوں اور میری آنکھیں اس ملک کے اولیاء اور بڑے بڑے غزوات کے مقامات کو دیکھ کر ٹھنڈی ہوں۔میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے تمہاری زمین کا دیکھنا نصیب کرے۔اور