خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 161

خطبات طاہر جلد۳ 161 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء ہے اور اپنے اندر اور اتنے حیرت انگیز اس کے اندر بار یک مصالح کارفرما ہیں ایک باشعور ہستی کے کہ ان پرغور کرتے چلے جاؤ تو ہر جانور خدا کی ہستی کا ایک عجیب ثبوت بن جاتا ہے۔اب تو یہ تحقیق بہت بڑا علم بن چکی ہے لیکن اتنا بڑا علم بننے کے باوجود کسی جانور کی ایک بار یک کی صفت پر بھی پورا عبور حاصل نہیں کر سکی مثلاً متفرق تحقیقات میں ایک تحقیق اس بات پر ہورہی ہے بڑے حصہ سے کہ جانور اپنے گھروں تک کس طرح پہنچتے ہیں دور جانے کے بعد ان کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے کس سمت میں جانا ہے؟ اور سب سے پہلے اس معاملے میں شہد کی مکھی نے انسان کو حیران کیا۔چنانچہ ارسطو نے سب سے پہلے اس بات پر غور کیا اور اس معمہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا کہ شہد کی مکھی میں ایک حیرت انگیز ایک خصلت پائی جاتی ہے، ایک اہلیت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے چھتے سے دور چلی جاتی ہے اور بظا ہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ چھتے تک واپس پہنچے لیکن پھر پہنچ جاتی ہے۔اس پر جو تحقیق ہوئی تو بہت لمبے عرصہ تک انسان اس کی وجہ کو پا نہیں سکا لیکن 1914ء میں ایک سائنسدان نے سب سے پہلے اس کا نام فان فش (Von Fisch) تھا ، فان فش نے یہ حیرت انگیز بات شہد کی مکھی کے متعلق دریافت کی کہ شہد کی مکھی کا دیکھنے کا شعور اور اُسکی دیکھنے کی دنیا انسان سے بالکل الگ ہے۔ہم جس روشنی کو دیکھ رہے ہیں اس روشنی سے ایک الگ روشنی کی دنیا میں وہ رہتی ہے۔عام شعائیں جو ہم دیکھتے ہیں ان کو وہ نہیں دیکھتی بلکہ الٹراوائیلٹ شعاعوں کی قسم ہے اُس جہاں میں وہ رہتی ہے۔الٹراوائیٹ کا جہان انسانی جہان سے بالکل مختلف ہے۔ہم جو چیز میں دیکھ رہے ہیں ، جو ہمیں یہ رنگ نظر آرہے ہیں، جو طرزیں نظر آ رہی ہیں، جو شیڈ نظر آرہے ہیں اگر یہاں یہ روشنی نہ ہو جو ہم دیکھ سکتے ہیں اور صرف الٹراوائیلٹ ہوں تو ہم کلیتہ اندھے ہو جائیں گے۔ایک ادنی ذرہ بھی ہمیں نظر نہیں آئے گا، ایک بڑی سے بڑی چیز بھی نظر نہیں آئے گی کیونکہ الٹراوائیلٹ کو دیکھنے کی خدا تعالیٰ نے انسان کو صلاحیت ہی نہیں بخشی اور شہد کی مکھی کے لئے اس روشنی کی کوئی حقیقت نہیں۔وہ الٹرا وائیلٹ روشنی سے ایک بالکل مختلف جہان دیکھ رہی ہے اپنا اور اسی روشنی کے ذریعہ وہ پھولوں کا رس بھی چوستی ہے اور اسی روشنی کے ذریعہ وہ یہ معلوم کرتی ہے کہ کہاں شہد ہے کہاں نہیں اور اس کے سارے References اپنی ذات کے ساتھ متعلق رکھنے والے، سارے حوالے اس