خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 129

خطبات طاہر جلد ۳ 129 خطبه جمعه ۲ / مارچ ۱۹۸۴ء تو اب ہے۔اس موقع پر مغفرت کا ذکر کرنا اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب کام تبلیغ کا ختم ہو گیا۔خدا سے دعا کر کہ اگر خدمت تبلیغ کے دقائق میں کوئی فروگذاشت ہوئی ہو تو خدا اس کو بخش دے۔موسیٰ بھی تو ریت میں اپنے قصوروں کو یاد کر کے روتا ہے اور جس کو عیسائیوں نے خدا بنارکھا ہے کسی نے اس کو کہا کہ اے نیک استاد! تو اس نے جواب دیا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے؟ نیک کوئی نہیں مگر خدا۔یہی تمام اولیاء کا شعار رہا ہے۔سب نے استغفار کو اپنا شعار قرار دیا ہے بجز شیطان کے“۔براهین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۱،۲۷۰) پھر مزید فرماتے ہیں چنانچہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی تمام استغفار اسی بنا پر ہے کہ آپ بہت ہی ڈرتے تھے کہ جو خدمت مجھے سپرد کی گئی ہے یعنی تبلیغ کی خدمت اور خدا کی راہ میں جانفشانی کی خدمت اس کو جیسا کہ اس کا حق تھا میں ادا نہیں کر سکا اور اس خدمت کو آنحضرت علی کے برابر کس نے ادا کیا؟ کسی نے ادا نہیں کیا مگر خوف ،عظمت اور ہیبت الہی آپ کے دل میں حد سے زیادہ تھا اور اسی لئے دوام استغفار آپ کا شغل تھا۔اب دیکھئے دعوت الی اللہ کا کتنا بڑا کام اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو سونپا اور وہی کام آج ہماری طرف منتقل کیا گیا ہے وہ سارا بوجھ آج ہمارے کمزور کندھوں پر ہے۔پس ان معنوں میں جن معنوں میں آنحضرت عل استغفار فرمایا کرتے تھے کتنی بڑی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر عائد ہوتی صلى الله ہے کہ ہم ان معنوں میں استغفار کریں، کثرت کے ساتھ دعوت الی اللہ کا حق ادا کرتے چلے جائیں اور پھر ہرگز تکبر کو پاس نہ پھٹکنے دیں ، یہ وہم و گمان بھی نہ کریں کہ ہم نے کمال کر دیا ہے۔نہایت عاجزی سے روتے ہوئے اپنے رب سے یہ عرض کریں کہ اے خدا! تیرا سب سے کامل نبی جس سے بہتر حقوق کی ادائیگی کسی نے نہیں کی تھی، جس سے بڑا امین کوئی دنیا میں پیدا نہ ہوا، نہ ہوسکتا ہے نہ ہوگا، جس نے تیری ہر امانت کا حق پورا پورا ادا کیا ، اگر اس کے باوجود اس کے دل کی یہ کیفیت تھی کہ وہ