خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 117

خطبات طاہر جلد۳ 117 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی درمین فارسی ) اے محبت ! میں فدا ہوں تجھ پر تو نے تو عجیب کام کر کے دکھا دیئے ہیں۔اللہ کی محبت مجھے ایسی عطا ہوئی اور اللہ کی محبت نے وہ کرشمے دکھائے کہ اب یار کے لئے زخم پہنچے یا مرہم عطا ہو دونوں کا ایک ہی مزہ آنا شروع ہو گیا ہے۔خدا کی راہ میں جب میں تکلیفیں اٹھاتا ہوں تب بھی مزے اٹھا رہا ہوتا ہوں۔خدا کی طرف سے جب نعمتیں مل رہی ہوتی ہیں تب بھی میں مزے اٹھا رہا ہوتا ہوں۔تو محبت ہی ہے جو ایسے عجیب کرشمے دکھاتی ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو خالص اپنی محبت عطا فرمائے عبد شکور بنائے اور یہ طاقت بخشے کہ ان کے غم بھی خدا کی طرف لے جائیں اور ان کی خوشیاں بھی خدا کی طرف لے جائیں اور وہ خدا ذاتی مقصود بن جائے ان کا ، ایسی جماعت ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا کرنے کے لئے آئے تھے اور یہ جماعت ایک جنت کا نمونہ ہے۔آپ کی جنتیں جن کی آپ راہ دیکھ رہے ہیں وہ اسی بات میں ہیں یہ تین چیزیں آپ کو نصیب ہو جا ئیں تو آپ اس جنت کو پالیں گے جس جنت کی خدا تعالیٰ خوشخبریاں عطا کیا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔