خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 116
خطبات طاہر جلد ۳ 116 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء بعض دفعہ اس طرح ظاہر ہو جاتا ہے کہ ہر مادی چیز غائب اور باطن میں چلی جاتی ہے اور صرف خدا ہی خدانظر آ رہا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کے تو لاکھوں کروڑوں رستے ہیں اور جس رستہ پر آپ خدا کو ڈھونڈیں گے وہاں آپ کو خدا نظر آئے گا اور وہ آپ کے لئے ظاہر ہوتا چلا جائے گا۔جس کے لئے خدا ظاہر ہو جائے اس کے مقابل پر دنیا کی کوئی طاقت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ناممکن ہے کہ پھر اس پر کوئی دنیا کی طاقت حملہ کرے اور اسے ناکام بنا سکے۔اس لئے جتنی اللہ تعالیٰ خوش خبریاں عطا فرماتا جاتا ہے اتنا ہی میرے دل میں یہ فکر بڑھتا جاتا ہے کہ کاش ہم عبد شکور بن سکیں اللہ تعالیٰ ہمیں ناشکروں میں نہ لکھے۔وہ ہم پر فضل فرمارہا ہے ہمارے استحقاق کے بغیر ، وہ ہم پر رحمتیں نازل فرما رہا ہے باوجود اس کے کہ ہم بہت گنہ گار اور کمزور ہیں اور ہم پورا حق ادا نہیں کر رہے، اس کے باوجود اس کی رحمت کے فرشتے ہماری حفاظت بھی کر رہے ہیں ہمیں نئی نئی خوشخبریاں عطا کر رہے ہیں، ہمیں برکتوں پر برکتیں دیتے چلے جارہے ہیں اور پھیلاتے چلے جا رہے ہیں دنیا میں ، ہمارے ایمان کو بڑھا رہے ہیں ، ہمارے اخلاص کو بڑھا رہے ہیں ، ہماری خوشیوں میں برکت دے رہے ہیں ، ہمارے اموال ہماری جانوں ہماری اولا دوں میں برکت پر برکت دیتے چلے جارہے ہیں۔تو مجھے یہ غم کھاتا ہے کہ ہم عبد شکور بھی بن رہے ہیں کہ نہیں۔اور عبد شکورا گر آپ بن جائیں اور اللہ تعالیٰ سے شکر کے نتیجہ میں محبت ہو جائے تو پھر اس کے فضلوں کی کوئی انتہا ہی نہیں رہے گی۔ساری دنیا کے خزانے آپ کے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے۔تمام دنیا کی طاقتوں کی کنجیاں آپ کو پکڑا ئی جائیں گی ، تمام دنیا کی ملکیت میں خدا تعالیٰ اپنے ساتھ شامل کر لے گا آپکو۔یہ ہے محبت کا آخری نتیجہ! اس لئے فکر کریں اور محبت پیدا کریں اور محبت کے لئے نہ علم کی ضرورت ہے اور نہ دولت کی ضرورت ہے نہ کسی اور ایسی دنیاوی ذرائع کی ضرورت ہے جس کے متعلق کوئی کہے کہ مجھے حاصل نہیں۔ایک درویش، ایک فقیر ، ایک غریب اور ایک مسکین بظاہر دنیا کی نعمتوں سے محروم بھی جب خدا سے محبت کرتا ہے تو وہ اللہ والا بن جاتا ہے، اولیاء میں شمار ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ پر خدا عجائب کام دکھاتا ہے۔یہ ہے محبت کا کرشمہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: