خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 112

خطبات طاہر جلد ۳ 112 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء میں پیدا ہوئی ہے اس لئے اگر آپ خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی رکھتے اور ایک عظیم انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں دنیا میں تو اس مقصد سے محبت پیدا کریں۔جن لوگوں کو احمدیت سے عشق ہے اور پیار ہے ان کی دعاؤں میں تو ایک مجنونانہ کیفیت ہوتی ہے۔جن کو اسلام سے سچی محبت ہے وہ تو محبت سے ایسا بے قرار ہو جاتے ہیں کہ ان کی دعائیں جاگ اٹھتی ہیں ان میں ایک زندگی پیدا ہو جاتی ہے، ایک کہرام مچ جاتا ہے۔کہاں محبت کرنے والے کی دعا اور کہاں محبت سے خالی انسان کی دعا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں پڑھیں تو سہی، وہ ابھی پوری کیفیت کو بیان نہیں کر سکتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کے وقت ہوا کرتی تھی فرماتے ہیں دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفی ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۲۹) میرے میں طاقت ہی نہیں ہے کہ میں محمد مصطفی ﷺ کے دین کا ضعف دیکھوں میرے غم پر نظر فرما شور کیسا ہے ترے کوچے میں لے جلدی خبر خوں نہ ہوجائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا سرمه چشمه آرید روحانی خزائن جلد ۲ صفحریم ) کام اللہ کا ہے اس نے کرنا ہے اور بندہ کا یہ حال ہے کہ بیقراری سے تڑپ رہا ہے زمین پر اور کہہ رہا ہے کہ اے خدا! میرے حال پر نظر کر میں مرجاؤں گا اگر تو نے دیر کی تو میرا کچھ بھی باقی نہیں ہوگا۔یہ تڑپ ہے جو محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔اب کہاں یہ دعائیں جو محبت سے طاقت حاصل کر رہی ہوں اور کہاں وہ خالم خولی دعا ئیں کہ اللہ میاں اسلام کو فتح دے، اللہ میاں احمدیت کو فتح دے۔بہت فرق ہے ان دونوں چیزوں میں اسی لئے اپنی دعاؤں میں محبت پیدا کریں اور محبت کا دوسرا حصہ ہے خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت امر واقعہ یہ ہے کہ مقصد سے محبت بھی انسان کے اندر ایک سوز و گداز پیدا کر دیتی ہے لیکن مقصد سے محبت اصل میں ہو نہیں سکتی یعنی روحانی مقصد سے محبت جب تک خدا سے محبت نہ ہو۔اللہ ہی سے محبت ہے جو بنی نوع انسان کی محبت میں بدلتی ہے اللہ ہی سے محبت ہے جو مقصد سے عشق پیدا