خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد ۳ 111 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء ایک بہت معمولی جگہ سے بھی اٹھ جائے تو وہیں دکھ اور وہیں بے قراری پیدا ہو جاتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو آئندہ زندگی میں جہنم بنے گی بیمارلوگوں کے لئے۔اس دنیا میں خدا بتا تا ہے کہ جس کو تم سمجھ رہے ہو کہ خدا کے بغیر تم صحت مند ہو اور پھر رہے ہو اور تمہیں کوئی تکلیف نہیں اور موجیں لوٹ رہے ہو اگر اللہ تمہاری مشینری میں سے کروڑ ہا کروڑ بلکہ ان گنت محرکات میں سے ایک محرک کو بھی اٹھا لے تو تم بے قرار ہو جاؤ گے۔تمہارے لئے یہی دنیا یہی زندگی جہنم بن جائے گی۔فرمایا تم پھر مجھ سے کیسے غافل ہو۔جب میرے پاس آتے ہو تو میرے فضلوں کے وارث بن کر پہنچو کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جب تعلق ٹوٹتا ہے، اُس وقت بیماری پیدا ہوتی ہے، اس وقت دکھ پیدا ہوتا ہے۔اگر آپ عبد شکور بننا سیکھیں تو شکر کے ساتھ آپ کو بے انتہا قوی طاقتور دعاؤں کی توفیق ملے گی۔اور جو دعائیں خوشیوں کے شکر میں بدلنے سے پیدا ہوتی ہیں وہ دعا ئیں مقبول ہوتی ہیں۔اور ان کے نتیجہ میں مزید فضل پیدا ہوتے ہیں۔تو یہ دوسرا حصہ ہے، طاقت کا سرچشمہ جس سے آپ تعلق جوڑیں کیونکہ پہلے بھی آپ کا تعلق ہے لیکن آپ کو معلوم نہیں اکثر صورتوں میں کہ کس طرح فائدہ اٹھانا ہے۔تیسرا مرکزی نقطہ دعا کے لئے یا ایندھن جس سے دعا طاقت پاتی ہے وہ محبت ہے۔کسی مقصد سے محبت ہو جائے تو اس کے لئے انسان مجنون ہو جاتا ہے اور محبت کے نتیجہ میں جو دعائیں ہیں وہ خدا تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔چنانچہ جو لوگ تبلیغ کرنے والے ہیں ان میں دو قسم کے ہیں اور جو تبلیغ نہیں کرتے ان میں بھی دو قسم کے ہیں۔کچھ تو کہتے ہیں کہ ہم تبلیغ تو نہیں کرتے لیکن دعا کرتے ہیں۔حالانکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اگر تبلیغ سے محبت ہو اور پیار ہواور جنون ہو تو دعا ہی پر انحصار ہو اور کوشش انسان نہ کرے۔دعا اور کوشش حقیقت میں کبھی الگ نہیں ہو سکتے ، دعا نام ہے سنجیدگی اور سچائی کا اور جو شخص سچائی سے کچھ حاصل کرنا چاہے وہ خود بڑھتا ہے اس طرف اور جب عاجز آجاتا ہے اس وقت دعا ئیں اس کے کام آتی ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کھانا دیکھیں اور بھوک لگی ہو اور آپ دعا شروع کر دیں کہ اے خدا! یہ کھانا اٹھ کر میرے منہ میں آجائے ، میں اس تک نہیں پہنچنا چاہتا لیکن ہے مجھے بڑی محبت۔ہاں اگر آپ ہاتھ بڑھائیں اور وہ آپ کے ہاتھ میں نہ آئے وہ اونچا ہو، کوئی ذریعہ نہ ہواس تک پہنچنے کا پھر کوشش بھی کرتے چلے جائیں گے اچھلتے بھی رہیں گے ساتھ اس کو پکڑنے کے لئے لیکن دعا بھی ساتھ بے اختیار جاری ہوگی تو یہ دعا با مقصد دعا ہے ایک محبت کے نتیجہ