خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 103

خطبات طاہر جلد ۳ 103 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء ہر احمدی کو دعا کے معاملہ میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا چاہئے۔دعا کے لئے خلیفہ وقت کو یا کسی بزرگ کو لکھنا ایک روحانی تعلق کے لئے ضروری ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ بعض مناصب کی عزت رکھتا ہے ان سے خاص نصرت کا سلوک فرماتا ہے اس لئے زیادہ دعائیں قبول بھی کرتا ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے ہرگز کافی نہیں ہے، کافی یہ ہوگا کہ ہر احمدی دعا گواحمدی بن جائے اور دعاؤں کا گر سیکھ لے اور مقبول الدعوات ہو جائے ، اس کی دعائیں عرش پر سنی جائیں اور مقبول ہوں اور وہ اپنے علاقہ کے لئے ولی بن جائے جس کی برکت سے علاقہ کی تقدیر بدلی جائے۔ہمیں تو بکثرت بلکہ لکھوکھا ایسے اولیاء کی ضرورت ہے جو خود دعا گو ہوں اور جن کی دعاؤں کو خدا پیار اور محبت کی نظر سے دیکھنے والا ہو اس لئے دعا کے فلسفے کو سمجھنا بہت ہی ضروری ہے اور بار بار آپ اس کی طرف توجہ کریں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بعض لوگ صرف اپنی غرض کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں ان کی دعا میں اور ان لوگوں کی دعاؤں میں فرق ہے جو غیروں کی اغراض کے لئے دعائیں کرتے ہیں جو دوسروں کا دکھ محسوس کر کے ان کے لئے تڑپتے اور ان کے لئے بے قرار ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ان کی دعائیں اگر وہ اپنے لئے نہ بھی کریں تب بھی مقبول ہو رہی ہوتی ہیں۔وہ جو نہیں بھی مانگتے خدا کی نظر ان پر ہوتی ہے کیونکہ ان کی نظر خدا کے بندوں پر ہوتی ہے اس لئے دعا کی مقبولیت کا ایک یہ گر بھی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ عین مصیبت پڑ جائے تو پھر دعا کی طرف توجہ ہو اس میں خدا تعالیٰ سے ایک استغناء کا رنگ پایا جاتا ہے۔یعنی عام طور پر تو خدا کے دربار میں حاضر نہ ہو لیکن جب مصیبت پڑے تو آئے ، ایسے شخص کی مثال ویسی ہی ہے جیسے آپ کے پاس کوئی شخص ویسے تو قریب نہ پھٹکے آپ سے کوئی تعلق کا اظہار نہ کرے لیکن جب کام پڑے تو آیا کرے۔ایک دو دفعہ تو شاید آپ حسن سلوک بھی کر لیں اس کے بعد آپ اس سے تنگ آجائیں گے کہ یہ تو بڑا خود غرض انسان ہے صرف اس وقت آتا ہے جب اس کو کوئی مصیبت پڑتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے اس کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ انسان اپنی فطرت میں ڈوب کر خدا کے رنگ سیکھ سکتا ہے اور اپنے رب کو پہچان کر اس سے استفادہ کر سکتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ دعا میں یہ رنگ پیدا کرو کہ ابھی تمہیں کوئی ضرورت نہ بھی پڑی