خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 59
خطبات طاہر جلد ۲ 59 59 خطبه جمعه ۲۸ / جنوری ۱۹۸۳ء باقی عیسائی کہلانے والے خدا کی ہستی کے قائل ہی نہیں اور جو عیسائیت کے قائل ہیں ان کی بیماریاں بھی بے شمار ہیں۔پس نا معقول نظریہ کے نتیجہ میں دنیا دکھوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور ایسے خطرناک فتنے پھوٹتے ہیں جو انسان کے لئے بڑی وسیع تباہی کا موجب بنتے ہیں۔یہ اس تجزیہ کا وقت تو نہیں لیکن اشارۃ آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ اگر آپ غور کریں اور تدبر سے کام لیں تو آج کے زمانہ کی اکثر بیماریاں اور مصیبتیں عیسائیت سے پھوٹتی ہوئی نظر آئیں گی اس لئے عیسائیت کے خلاف سب سے زیادہ جہاد کی ضرورت ہے اور اس جہاد میں ہر احمدی کو لازماً شامل ہونا پڑے گا۔مجھے یقین ہے اگر ہر احمدی اس جہاد میں شامل ہو جائے تو ہماری تعداد ان کے مبلغین سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔تبلیغ کے نتیجہ میں علم خود بخود آ جاتا ہے۔پہلے علم حاصل کر کے تبلیغ کرنا بھی اچھی بات ہے لیکن جس شخص کو یہ توفیق نہ ہو اور اکثر کو نہیں ہوتی ان کو انتظار کئے بغیر میدان میں کودنا پڑے گا۔اس سلسلہ میں دعا اصل چیز ہے۔میں ایک لمبا عرصہ تبلیغ کے کام سے منسلک رہا ہوں۔میرا یہ تجربہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی بھی بڑے سے بڑے عالم کی کوششیں ثمر آور نہیں ہوتیں جب تک وہ بنیادی طور پر منتقی اور دعا گو نہ ہو۔اور بڑے بڑے ان پڑھ میں نے دیکھے ہیں جن کو دین کے لحاظ سے کوئی وسیع علم نہیں تھا لیکن ان کی باتوں میں نیکی اور تقویٰ تھا، ان کو دعاؤں کی عادت تھی وہ بڑے کامیاب مبلغ ثابت ہوئے اس لئے جو اصل ہتھیار ہے وہ تو ہر ایک احمدی کو مہیا ہے پھر وہ باقی چیزوں کا انتظار کیوں کرتا ہے۔ہاں جب تبلیغ کے میدان میں وہ کو دیں گے تو رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ خود ان کی تربیت فرمائے گا، ان کے ذہنوں کو جلا بخشے گا، ان کے علم میں برکت ڈال دے گا۔یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک عام انسان جب کوئی کام شروع کرتا ہے تو قانون قدرت خود بخود انتظام کرتا ہے کہ اس کا کام پہلے سے بہتر ہوتا چلا جائے۔مثلاً بچہ ہے وہ پہلے چلنا سیکھتا ہے تو پھر دوڑ نے لگتا ہے۔دوڑتا ہے تو پھر بڑے بڑے عظیم الشان کارنامے سرانجام دینے لگ جاتا ہے۔ہر ورزش کے نتیجہ میں (سوائے اس کے کہ انسانی طاقت سے بڑھ کر کی جائے) پہلے سے بڑھ کر طاقت پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح آپ تبلیغ کے میدان میں جائیں گے تو خدا تعالیٰ خود آپ کو مضمون سکھائے گا۔اور عیسائیت تو اتنی بودی ہے، اتنی بے معنی ہے، اتنی بے حقیقت ہے ، اس کا نظریہ اتنا کلچر ہے کہ کسی احمدی کے لئے عیسائیت کے مقابل پر کسی تیاری کی کیا ضرورت ہے۔جس کے عقیدہ میں عیسائی خدا کے بیٹے کی موت داخل ہوگئی ہو، جس