خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 636

خطبات طاہر جلد ۲ 636 خطبہ جمعہ ۱۶ رد سمبر ۱۹۸۳ء تباہ ہونے لگتا ہے۔ایسے لوگ دوسروں سے قرض لیتے ہیں اور پھر واپس نہیں کر سکتے۔ایسی مثالیں بھی سامنے آتی ہیں کہ لوگوں سے دکھاوے کی خاطر زیور مانگ کر لئے اور جب وہ اپنی بیٹی سے واپس لے جانے لگے تو دوسروں نے دخل دیا۔انہوں نے کہا اب کہاں لے جارہے ہو اب تو یہ ہمارے قابو آ گیا ہے یہ تو یکطرفہ رستہ ہے واپسی کا کوئی سوال نہیں ہے اور پھر اس پر بڑے بڑے سخت جھگڑے چلے ہیں کہ انہوں نے اپنی بچی کو فلاں زیور دیئے تھے اور اب یہ واپس لے جانے لگے تھے ہم نے پکڑ لیا ہم نہیں جانے دیں گے، ان کا کیا حق ہے حالانکہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ محض دکھاوے اور نام و نمود کی خاطر مانگے ہوئے زیور تھے۔پس یہ ساری وہ رسمیں ہیں جن کے خلاف ہمیں جہاد کرنا ہے اور جماعت کو ان بوجھوں سے آزاد کرنا ہے ورنہ بہت سے جھگڑے بھی چل پڑیں گے۔رسمیں اپنی ذات میں بھی بے ہودہ چیزیں ہیں اور آپ کو ان سے آزاد کرانا آپ کی اپنی بھلائی میں ہے لیکن اس کے نتیجہ میں پھر اور جو بداثرات پیدا ہوتے ہیں اس سے سوسائٹی پھٹ جاتی ہے۔اختلافات بڑھ جاتے ہیں ،نفرتیں پیدا ہوتی ہیں، دنیا داری بڑھ جاتی ہے، روحانیت کو بڑا شدید نقصان پہنچتا ہے۔ایک دوسرے کے بعد پے در پے رونما ہونے والے نتائج ہیں جو اپنے بداثرات میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اس لئے رسموں کو معمولی نہ سمجھیں اگر آپ ان سے صرف نظر کریں گے تو یہ بڑھ کر آخر کار آپ پر قابو پا جائیں گی۔پھر یہ پیر تسمہ پا بن جائیں گی کہ جو آپ کی گردن میں ٹانگیں پھنسا لے گا اور پھر اس گردن کو نہیں چھوڑے گا اسی لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں رسم کی بھیانک شکل کا نام طوق رکھا ہے فرمایا۔وَالْأَغْلُلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمُ بڑی بڑی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ تھے جن پر میرا محمد مصطفی ہے ظاہر ہوا۔کس شان کا نبی ہے انہیں حلال باتیں بھی کھول کھول کر بتا رہا ہے اور حلال میں سے بھی طیبات ان پر حلال کر رہا ہے اور حرام باتیں بھی خوب کھول کھول بتا رہا ہے اور بیچ کی باریک راہوں سے بھی غافل نہیں ہے۔انہیں خوب اچھی طرح بتاتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان کیا کیا چیزیں ہیں اور ان میں کیا کیا احتیاطیں اختیار کرنی چاہئیں اور پھر ان قوموں کو آزادی دلا رہا ہے جو صدیوں سے رسم و رواج کے طوق تلے کلیتہ بے کار اور غلام بن چکی تھیں۔ایسی حالت میں پھر ان کا اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔یہ جو اپنا کچھ بھی باقی نہ رہا، یہ ترجمہ میں کر رہا ہوں گردن کے طوق کا۔بات