خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 56
خطبات طاہر جلد ۲ 56 خطبه جمعه ۲۸ / جنوری ۱۹۸۳ء سالا نہ ہوا کرتی تھیں۔علاوہ ازیں بعض ایسے اوقات بھی آتے تھے جب غیر معمولی شان کے ساتھ کوئی نشان ظاہر ہوتا تھا تو اچانک بیعتوں کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہو جایا کرتا تھا۔بعض اوقات ڈا کیا پھیرے مارتے مارتے تھک جاتا تھا۔بیعتوں کا ایک تھیلا اٹھا کر لایا، پھر دوسرا تھیلا لے جانے چلا جاتا تھا۔پھر وہ تیسرا لینے چلا جایا کرتا تھا۔یہ برکت اس وجہ سے تھی کہ نفوس کی قربانی میں بھی برکت تھی۔خدا تعالیٰ کی برکتیں ہماری قربانیوں کی برکتوں کے ساتھ ایک نسبت رکھتی ہیں۔یہ درست ہے کہ ہماری قربانیوں سے سینکڑوں گنا زیادہ اللہ کے فضل ہوتے ہیں مگر وہ نسبت پھر بھی قائم ہے۔اگر ایک اور سو کی نسبت آپ کہیں تو جب دس قربانیاں نازل کریں گے تو ہزار فضل نازل ہوں گے۔یہ تو نہیں کہ ایک قربانی کے بعد سو اور دس کے بعد بھی سو ہی رہیں اس لئے فضلوں کو بڑھانے کی بھی تو کچھ ادا ئیں ہوا کرتی ہیں وہ ادا ئیں اختیار کرنی پڑیں گی۔اس وقت تمام دنیا میں جو عیسائی مبلغ کام کر رہے ہیں ان کی تعداد دو لاکھ پچھتر ہزار کے قریب ہے اور یہ وہ عیسائی مبلغ ہیں جو عام پادری نہیں جو چرچوں میں عبادت کی خاطر مقرر ہوتے ہیں بلکہ یہ خالصتا تبلیغی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور ان کی زندگی کا مقصد تبلیغ کے سوا اور کچھ نہیں۔اگر صرف ان کی تنخواہوں ہی کا حساب لگا کر آپ دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے۔اس کے علاوہ بے شمار دوسرے خرچ ہیں جو ہر ایک پادری کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔مثلاً لٹریچر کی اشاعت ہے، دولت کی مفت تقسیم ہے ، لوگوں کو سامان مہیا کرنا ، ان کو ہر قسم کے لالچ پیش کرنا، ہسپتالوں ،سکولوں اور کالجوں کے ذریعہ ان کی مددکرنا وغیرہ۔یہ اتنی بھاری رقم بن جاتی ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔صرف ان کی تنخواہوں پر ہر سال ارب ہا ارب روپیہ خرچ ہو رہا ہے جبکہ ہم بے چارے تو غریب لوگ ہیں ہمارے پاس سالانہ بجٹ چند کروڑ میں ہے۔اگر یہ سارا رو پی بھی ہم مبلغوں پر خرچ کر دیں اور ایک آنہ بھی دوسری جگہ خرچ نہ کریں تب بھی تعداد میں ہزاروں مبلغوں سے آگے نہیں بڑھ سکتے اور وہ دولاکھ پچھتر ہزار کے لگ بھگ ہیں۔اعداد و شمار دینے والے مختلف لوگ ہیں کچھ فرق سے اعداد و شمار دیتے ہیں لیکن جو میں نے جائزہ لیا ہے اس کے مطابق تقریباً پونے تین لاکھ با قاعدہ عیسائی مبلغ اس وقت دنیا میں کام کر رہے ہیں اور اگر اس کے ساتھ مار من چرچ کے پچاس ہزار سالانہ واقفین زندگی کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد سوا تین لاکھ بن جاتی ہے۔