خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 55
خطبات طاہر جلد ۲ 55 55 خطبه جمعه ۲۸ / جنوری ۱۹۸۳ء ہمارے Contact Points بہت بڑھ گئے ہیں۔اس زمانہ میں ہندوستان ایک ایسا ملک تھا جہاں جماعت احمدیہ کا رابطہ اور واسطہ زیادہ تر اسلام کے دشمنوں کے ساتھ تھا لیکن اب تو دنیا میں شاید گنتی کے چند ملک ایسے ہوں گے جہاں جماعت قائم نہ ہو ورنہ کوئی ایسی جگہ آپ کو نہیں ملے گی جہاں جماعت کا رابطہ کسی نہ کسی رنگ میں نہ رہا ہو یا اس وقت موجود نہ ہو۔مثلاً روس ایک ملک ہے۔باوجود اس کے کہ وہاں تبلیغ کی اجازت نہیں وہاں کے ایک رسالہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جماعت احمد یہ روس کے علاقوں میں بھی موجود ہے اگر چہ ان کا اپنے مرکز سے رابطہ نہیں۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ دنیا میں ہر جگہ احمدی پائے جاتے ہیں تو اسی کی بنا پر کہتا ہوں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ کا وجود چین میں بھی ہے، روس میں بھی ہے، مشرقی یورپ میں بھی ہے، بلکہ مشرقی یورپ کے ایک ملک کے متعلق ایک مصدقہ اطلاع یہ ملی ہے کہ وہاں اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے جتنے مسلمان ہیں ان میں ایک بھاری اکثریت جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب Contact Point وسیع ہو گیا ہو تو خدمت کی ضرورت اور بھی زیادہ پیش آیا کرتی ہے لیکن یہ ایک امر واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جتنا احمدی مبلغ تھا اور دعوت الی اللہ کیا کرتا تھا آج اس سے کم ہے۔اس وقت ہر احمدی مبلغ تھا ، ہر شخص دعوت الی اللہ کر رہا تھا۔ایک زمیندار کھیتوں میں ہل چلاتا تھا تو وہ بھی تبلیغ کر رہا ہوتا تھا، ایک تاجر جب لفافوں میں سودا ڈال کر گاہکوں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہوتا تھا تو اس وقت بھی وہ تبلیغ کر رہا ہوتا تھا، ایک حکیم جب دوائیوں کی پڑیاں بنا کر کسی کو دیتا تھا یا ڈاک میں پارسل بھیجتا تھا تو وہ ساتھ تبلیغ کر رہا ہوتا تھا، کوئی احمدی کسی بھی حیثیت کا ہو خواہ وہ وکیل ہو یا ڈاکٹر ہو، خواہ وہ تاجر ہو یا کوئی اور پیشہ ور ہو، خواہ نجار ہو یا لوہار ہو، ہر حیثیت میں وہ پہلے مبلغ تھا اور اس کی دوسری حیثیت بعد میں تھی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دلیکچر لدھیانہ میں یہ بات واضح فرمائی کہ جہاں تک بیعتوں کے اعدادوشمار کا تعلق ہے دو ہزار، چار ہزار، چھ ہزار تک بیعتیں موصول ہوتی ہیں۔(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 258 ) اگر مبلغ نہیں تھے تو یہ بیعتیں کہاں سے آ رہی تھیں۔اس زمانہ میں ہر ماہ چھ چھ ہزار بیعتیں عام روٹین (Routine) یعنی معمول کے مطابق ہوا کرتی تھیں جس کا مطلب ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بہتر ہزار بیعتیں