خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد ۲ 576 خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۸۳ء سال ہماری خوشیوں میں بعض ایسے غریب بھی شامل ہوں جن کے پاس پہلے کوئی مکان نہیں تھا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور احمدیت کی برکت سے اس سال ہم ان کو نئے مکانوں کی چابیاں سپر د کریں اس لئے اس نئے ایک کروڑ کی ادائیگی میں ہمیں جلدی کرنی چاہئے اور اگر اس مد میں زیادہ رقم بھی جمع ہو جائے گی تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔یعنی یہ شرط نہیں ہے کہ صرف ایک کروڑ ہی ہو۔دوکروڑ ، تین کروڑ یا جماعت کو جتنے کی توفیق مل سکتی ہے دے دے لیکن ایک کروڑ کم از کم حد ہے۔جہاں تک اس ایک کروڑ کا تعلق ہے اگر چہ اس کی حیثیت ویسے آجکل کے لحاظ سے تو کچھ نہیں ہے لیکن ایک کروڑ مقرر کرنے میں میرے پیش نظر ایک رؤیا ہے جو صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ نے گزشتہ سال اس کی تحریک کرنے کے کچھ عرصہ بعد دیکھی تھی۔آپ نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک غریبانہ مکان میں ایک چارپائی پر تشریف فرما ہیں اور لگتا ہے کہ وہ مکان ہے تو غریبانہ لیکن صاف ستھرا اور نیا بنا ہوا مکان ہے اور فرماتے ہیں ایک کروڑ ! اور اس کے بعد وہ رو یا ختم ہوگئی۔چونکہ اس سے پہلے بیوت الحمد کی تحریک ہو چکی تھی اس لئے جب انہوں نے مجھے یہ خواب لکھ کر بھجوائی تو میں نے یہی تعبیر کی کہ اس کا پہلا حصہ یہ بنے گا کہ ہم ایک کروڑ روپیہ کم از کم اس تحریک پر خرچ کریں اور دوسرا یہ ہو گا کہ جماعت احمد یہ ایک کروڑ مکانات بنائے۔یہ جو دوسرا حصہ ہے اس کے متعلق میں یہ امید رکھتا ہوں کہ اگلے سو سال کے جشن کے وقت انشاء اللہ پورا ہو جائے گا۔پس اس خواب کی تعبیر کے ایک حصہ کا آغاز ہم کر دیتے ہیں اور اپنے رب سے توقع رکھتے ہیں کہ اس کی دوسری تعبیر بھی بعینہ پوری کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے گا۔باقی جو دوست اس تحریک میں حصہ نہیں لے سکتے ان سے میں یہ کہتا ہوں کہ وہ دعائیں کریں اور ضروری نہیں ہے کہ ایک لاکھ کی توفیق ہو تبھی اس میں حصہ لیا جائے اگر زیادہ کثرت کے ساتھ دوست شامل ہونا چاہتے ہیں تو ضرور شامل ہوں کیونکہ یہ بہت ہی مبارک تحریک ہے جو لوگ بھی ان مکانوں میں رہیں گے خدمت کرنے والوں کو ہمیشہ ان کی دعائیں پہنچتی رہیں گی اس لئے اس تحریک میں کم سے کم روپیہ کے لئے میں کوئی حد مقرر نہیں کرتا۔اگر کوئی دوست چار آنے دے کر بھی اس میں شامل ہونا چاہے تو سیکرٹریان مال اس کے چار آنے بھی قبول کر لیں ، اس لئے بے شک وسعت پیدا ہو جائے اگر چہ اس سے حساب میں تھوڑی سی مشکل تو پیدا ہوتی ہے لیکن کوئی حرج نہیں جو