خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 556 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 556

خطبات طاہر جلد ۲ 556 خطبه جمعه ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۳ء امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو مزید توفیق عطا فرمائے گا اور ہم بفضلہ تعالیٰ تحریک جدید کی قربانیوں کے ہر میدان میں آگے بڑھیں گے۔اس ضمن میں ہمیں بعض باتوں کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔دوستوں کو یاد ہوگا کہ تحریک جدید کے آغاز میں ایک ۱۹ نکاتی پروگرام بھی پیش کیا گیا تھا اور یہ پروگرام اس غرض سے تھا کہ جماعت رفتہ رفتہ زندگی کی ایسی دلچسپیوں کو کم کرتی چلی جائے جن میں ان کا روپیہ اسلام کے سوا دوسری جگہ خرچ ہوتا ہے اور وہ روپے سمیٹ کر جہاں جہاں سے بھی انسان بچا سکے ضرور بچائے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیئے۔اس سارے پروگرام کا آخری مقصد تو یہی بنتا تھا لیکن اس مقصد کے حصول کے دوران جماعت کے اندر جو حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہوتی تھی وہ اپنی ذات میں ایک بہت بڑا پھل تھا۔مثلاً سادہ زندگی کا مطالبہ ایسے زمانہ میں جب کہ دنیا مادہ پرستی میں مبتلا ہو رہی ہو اسی طرح لہو ولعب سے پر ہیز جبکہ دنیا میں ایسی چیزیں ایجاد ہو چکی ہوں کہ جنہوں نے قوموں کے کریکٹر تباہ کر دیئے ہیں اور لہو و لعب کی طرف توجہ نے خدا سے غافل کر دیا ہے۔یہ دونوں چیزیں مثال کے طور پر ایسی ہیں جن کی پابندی سے آپ کے چندوں میں اضافہ ہو گا لیکن چندوں کا اضافہ اپنی جگہ ہے اور بالکل الگ مقصد ہے۔یہ دونوں باتیں اپنی ذات میں ایسے عظیم الشان مقاصد ہیں کہ جس قوم کو حاصل ہو جائیں وہ آزاد قوم کہلاسکتی ہے۔تحریک جدید کو چاہئے کہ وہ اس پہلو کی طرف بھی توجہ کرے۔جہاں مالی قربانی میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں وقتا فوقتا تحریک جدید کے ۱۹ نکاتی پروگرام کو مختلف رنگ میں جماعت کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہئے تا کہ ہمارے قدم متوازن طور پر آگے بڑھیں ہمارے کردار میں بھی برکت مل رہی ہو اور ہمارے قربانیوں کے معیار میں بھی برکت مل رہی ہو۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو تو اس کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ ایسا ضرور ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ جس طرح جماعت پر فضل فرما رہا ہے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہمارے دل کی نکلی ہوئی دعائیں ہوں اور وہ قبول نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ تو ہم پر اتنے احسان فرما رہا ہے کہ بعض دفعہ دعا کا خیال آتا ہے تو وہ اسے قبول فرمالیتا ہے کجا یہ کہ ساری جماعت اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ اور در دوالحاح کے ساتھ دعائیں کر رہی ہو اور اللہ تعالیٰ ان کو قبول نہ فرمائے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا اس لئے ہم اس یقین کے ساتھ