خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 551
خطبات طاہر جلد ۲ 551 خطبه جمعه ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۳ء بھی بہت جلد ہو جائے گی کیونکہ یہ جماعتیں ساری دنیا میں پھیلی پڑی ہیں اس لئے وہاں سے بروقت اطلاع آنا زیادہ مشکل کام ہے۔وکیل المال صاحب نے مجھے بتایا ہے کہ ایسے بہت سے ملک ہیں جن کی وصولی اس میں شامل نہیں ہوسکی۔بعض جماعتوں کی اطلاع جولائی کی ہے، بعض کی اس سے بھی پہلے کی ہے غرضیکہ ہرگز بعید نہیں کہ آج تک ان کی وصولی ۵۳۰۰,۰۰۰ کے لگ بھگ ہو چکی ہو اور اس کی اطلاع آتے آتے شاید ایک مہینہ اور لگ جائے۔بہر حال مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو وعدوں کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا اور یہ بعید نہیں کہ وصولی وعدوں سے بھی آگے بڑھ جائے۔جہاں تک وصولی میں غیر معمولی اضافوں کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بعض جماعتیں مستعد ہونے کے باوجود اس معاملہ میں بہت تیزی سے آگے بڑھی ہیں۔بیرون پاکستان نمایاں طور پر کام کرنے والی جماعتوں میں سے امریکہ کا اضافہ تین گنا ہے، کینیڈا کا ساڑھے پانچ گنا اور ٹرینیڈاڈ کا دس گنا، سرینام کا چھ گنا ، برطانیہ کا تین گنا، جرمنی کا دو گنا ہے۔کئی نو جوان جو جرمنی میں کام کرتے ہیں ان کی تعداد میں کمی آئی ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے دوسرے ملکوں میں ہجرت کر گئے ہیں۔کچھ دوستوں کو جرمن قانون کے مطابق مزید ٹھہرنے کی اجازت نہیں ملی۔یہ جماعت پہلے بھی چندوں میں بڑی مستعد جماعت تھی اس لئے ان کا دو گنا اضافہ بھی مالی قربانی کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے۔ڈنمارک کا پانچ گنا اصافہ ہوا ہے۔سویڈن کا سات گنا ناروے کا چار گنا اضافہ ہوا ہے۔اور بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ مالی قربانی کے اس جہاد میں افریقن ممالک بھی خدا کے فضل سے پیچھے نہیں رہے۔چنانچہ نایجیریا کا بارہ گنا اضافہ ہے اور غانا کا ساڑھے پانچ گنا۔غانا کے اقتصادی حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ وہاں کی جماعتوں کا ساڑھے پانچ گنا اضافہ ایک غیر معمولی قربانی ہے کیونکہ وہاں تو اس قدر مہنگائی ہو چکی ہے اور اقتصادی حالت دن بدن اتنی خطر ناک ہو رہی ہے کہ لوگوں کو کھانے کے لئے روٹی نہیں ملتی۔پٹرول غائب ہے موٹریں موجود ہیں لیکن چل نہیں سکتیں اس لئے اپنی اپنی جگہ پر کھڑی ہیں۔ٹیوب ویل اگر ہیں تو بند پڑے ہیں ، کھانے کے لئے گندم بھی مہیا نہیں ہو رہی۔جو افریقن جنگلوں میں رہتے ہیں وہ تو جڑیں کھا کر گزارہ کر لیتے ہیں لیکن وہ جڑیں بھی اب کم ہورہی ہیں کیونکہ پچھلے چھ مہینے سے بارش نہیں ہوئی اس لئے قحط سالی کا بڑا