خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 550

خطبات طاہر جلد ۲ 550 خطبه جمعه ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۳ء جائیں اور پھر جماعتی سطح پر تحقیق کی جائے کہ ہر جماعت سے تعلق رکھنے والے ایسے کتنے لوگ ہیں جن کے بزرگان تحریک جدید کی صف اول میں شامل تھے لیکن ان کے کھاتے بند ہیں۔یہ تو اندرون ملک کی کیفیت ہے چندوں کی ادائیگی کی اور جیسا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے ہر پہلو میں غیر معمولی ترقی عطا فرمائی ہے۔جہاں تک بیرون پاکستان کی جماعتوں کا تعلق ہے میں نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ جہاں تک حصہ آمد اور چندہ عام کا تعلق ہے باہر کی جماعتوں کا چندہ پاکستان کے چندوں کے دگنے سے زائد ہے اور جہاں تک تحریک جدید کا تعلق ہے وہ نصف سے کم تو نہیں تقریباً نصف بنتا تھا اس سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ باہر کی جماعتوں میں کم از کم چار گنا زیادہ گنجائش موجود ہے۔اس وقت ان کا چندہ گیارہ لاکھ تھا۔چنانچہ مجھے یہ اندازہ تھا کہ اگر جماعت کوشش کرے تو چار گنا بلکہ پانچ گنا بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔یعنی خدا توفیق دے تو ۴۴ لاکھ سے ۵۰لاکھ تک بلکہ اس سے بھی بڑھ سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حیرت انگیز فضل فرمایا اور اس ایک سال کے اندراندر باہر کی جماعتوں کا چندہ گیارہ لاکھ سے بڑھ کر ۳۶۰۰۰۰۰ ۵ روپے ہو چکا ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ از خود فرشتوں کے ذریعہ دلوں میں تحریک فرما رہا ہے۔چنانچہ اتنے حیرت انگیز اضافے ہوئے ہیں اور ایسی ایسی جگہوں سے چندہ آیا ہے جہاں سے انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مزید گنجائش ہوگی۔باہر بعض ایسی جماعتیں ہیں جو بڑی مستعدد ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ پہلے اپنی توفیق کے مطابق چندے دے رہی تھیں۔پھر آمد نیوں کی نسبت مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔یعنی صرف پاکستان میں مہنگائی نہیں ہے ساری دنیا مالی لحاظ سے بحران کا شکار ہے اور دنیا کا جینا دوبھر ہورہا ہے۔خصوصاً وہ لوگ جو محنت مزور دی کر کے گزارہ کرتے ہیں ان کو مکانوں کے بہت زیادہ کرائے دینا پڑتے ہیں ، پھر خوراک مہنگی ہو گئی، لباس مہنگے ہو گئے ، غرضیکہ باہر کی دنیا بڑی مشکل سے گزارے کر رہی ہے۔اس کے باوجود غیر معمولی اضافے ، یہ حیرت انگیز بات ہے اور صرف وعدوں میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ اس کے ساتھ وصولی میں بھی امسال اسی شان سے غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔چنانچہ اب تک ۴۰,۵۹,۴۸۰ روپے وصول ہو چکے ہیں جو گزشتہ سال کی وصولی کی نسبت سے بھی زیادہ ہیں اور کئی گنا اسی نسبت سے زیادہ ہیں جس سے وعدے زیادہ ہوئے ہیں۔پس ہم امید رکھتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ بقیہ وصولی