خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 528
خطبات طاہر ۲ 528 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء سمجھیں گے، آپ ان پر کیا اثر ڈالیں گے؟ آپ کو تہذیب کے دائرہ کے اندر رہنا پڑے گا۔میں نے کہا آپ باقی لوگوں کو دیکھیں وہ سوال کرتے ہیں پھر ان کو جواب سننے کا حوصلہ بھی ہوتا ہے۔خیر تھوڑی دیر جب جواب سنا تو ان کو یہ خطرہ پیدا ہوا یہ بالکل بجا تھا کہ دوسرے مسلمان جو سن رہے ہیں اور جن کے وہ پیر بن کر آئے تھے وہ تو تائید میں سر ہلانے لگ گئے ہیں۔تب انہوں نے سوچا کہ اب میں کیا کروں۔چنانچہ آدھے سوال سے ذرا زائد جواب ہوا تھا کہ گھبرا کر اٹھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مجلس چھوڑ کر بھاگ گئے لیکن اکثر وہاں بیٹھے رہے۔ان کے ساتھ گنتی کے چند آدمی گئے۔وہ مخالف خاتون جن کا میں نے ذکر کیا ہے وہ بھی بیٹھی رہیں۔چنانچہ انہوں نے پھر دوبارہ مجھ سے وقت لیا۔کہنے لگیں میں تو کچھ اور سمجھا کرتی تھی احمدیت تو بالکل اور چیز ہے مجھے تھوڑا سا وقت دیں۔جب وہ ملنے کے لئے آئیں تو انہوں نے اعتراض دہرانے شروع کر دیئے جو آپ نے اکثر سنے ہوئے ہیں مثلاً محمدی بیگم کا اور اس قسم کے دوسرے اعتراضات۔پس اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے راستے کھولتا رہا ہے اور جتنی مخالفت ہوئی ہے اتنا فائدہ پہنچا ہے کیونکہ اس وقت جو غیر قوموں والے تھے وہ حج بن کر بیٹھ گئے تھے۔جب مقابلہ شروع ہوا تو وہ دیکھ رہے تھے کہ کون آدمی معقول باتیں کر رہا ہے اور کون کج بحثی کر رہا ہے، کون انصاف کی بات کر رہا ہے اور کون ضد کر رہا ہے اور لغو باتیں کر رہا ہے۔چنانچہ سب حاضرین پر احمدیت کا ایک بہت ہی پیارا تاثر پیدا ہونا شروع ہو گیا اور جو غیر مبائعین شامل ہوئے تھے وہ اس کے نتیجہ میں بڑی تیزی کے ساتھ ہماری طرف مائل ہوئے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہم سے تعلق قائم کیا۔اب یہ بات عام ہوگی تو یہاں کے غیر مبائعین بڑے گھبرائیں گے اور پریشان ہوں گے کہ ان کے شائد گنتی کے کچھ لوگ وہاں موجود ہیں وہ بھی ہاتھ سے جاتے نہ رہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تو ان کے ہاتھ سے جاتے رہیں گے کیونکہ میں ان کی آنکھوں میں محبت اور تعلق اور سمجھ کے آثار دیکھ کر آ رہا ہوں مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ ان کے دل مائل ہو چکے ہیں۔پس یہ ایک دن کی مجلس تھی جس میں ہم نے خدا تعالیٰ کے بڑے فضل دیکھے غیر معمولی تائید دیکھی نصرت دیکھی اور دلوں کو احمدیت کی طرف مائل ہوتے دیکھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں اسی