خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 527 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 527

خطبات طاہر ۲ 527 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء وہ بڑے پریشان ہوئے اور انہوں نے پھر سوال وجواب کا معاملہ اپنے ہاتھ میں سنبھال لیا۔انہوں نے ایک سوال کیا میں نے جب اس کا جواب دیا تو اس سوال کے پہلے حصہ سے مکر گئے۔خدا تعالیٰ نے ان کی ایسی عقل ماری کہ ان کے سوال کرنے کا پہلا حصہ خود ہی دوسرے حصہ کی نفی کر رہا تھا۔جب وہ بڑے لہک لہک کر سوال کرنے لگے اور انہوں نے خوب اردو بولی تو چونکہ وہاں اکثر مجالس انگریزی میں ہوتی تھیں مگر وہ کہتے تھے مجھے انگریزی نہیں آتی۔پہلے تو یہ جھوٹ بولا کہ مجھے اردو بھی نہیں آتی اور بعد میں جب مجبور ہو گئے تو اردو بولی اور اتنی فصیح و بلیغ کہ سارے حاضرین حیران رہ گئے کہ مذہبی آدمی اور اتنا جھوٹا۔کسی سے کہلوایا کہ اردو کا ایک لفظ بھی مجھے نہیں آتا اور بعد میں پتہ لگا کہ وہ اچھے بھلے یوپی کی اردو بولنے والے ہیں۔خیر اسی طرح ایک جھوٹ تو پکڑا گیا۔جب انہوں نے سوال مکمل کیا تو میں نے مسکراتے ہوئے تسلی سے ان سے کہا کہ مولوی صاحب ! آپ کے سوال کا آخری حصہ یہ ہے اور پہلا حصہ یہ ہے۔جواب تو آپ خود ہی دے چکے ہیں۔اس پر وہ پہلے حصہ سے مکر گئے کہ میں نے تو یہ کہا ہی نہیں تھا۔میں نے کہا بہت اچھا یہ حسن اتفاق ہے کہ کیسٹ ریکارڈنگ ہو رہی ہے اور وڈیو ریکارڈنگ بھی ہو رہی ہے۔اگر آپ فرما ئیں تو آپ کو یہ حصہ سنا دیں تو اسی وقت گھبرا کر پیچھا چھڑانے لگے کہ نہیں کوئی ضرورت نہیں ، میں نے کہا ہو گا لیکن اب میں ایک اور سوال کرتا ہوں۔جب دوسرا سوال شروع کیا تو میں نے قرآن کریم اور حدیث سے جواب دینا شروع کیا تو پریشان ہو گئے کہ نہیں آپ کون ہوتے ہیں قرآن کریم کی تشریح کرنے والے۔میں نے کہا مولوی صاحب! عقل کی بات کریں۔آپ نے خود ہی مذہب کے بارے میں سوال کیا ہے اور آپ نے خود ہی یہ کہا ہے کہ میں آپ کے سوال کا قرآن کریم کے ذریعہ جواب دے کر آپ کو مطمئن کروں۔اس لئے میں تو قرآن سے جواب دوں گا۔بولے نہیں قرآن تو ہمارا ہے۔گویا ان کی Monoply (اجاره داری) ہے۔میں نے کہا آپ نے سوال کیا ہے اور قرآن سے جواب مانگا ہے اس لئے اب آپ کو اس کا جواب سننا پڑے گا کیونکہ سائل کا پھر یہ حق نہیں ہے کہ وہ دخل اندازیاں کرے، کم از کم اسلامی شرافت تو سیکھیں یہاں آئے ہیں تو اسلامی تہذیب کے اندرر ہیں۔یہاں ہندو بھی بیٹھے ہیں اور عیسائی بھی نجیز بھی ہیں اور ایشیز بھی ، آپ جو حرکتیں کر رہے ہیں ان کو دیکھ کر لوگ کیا