خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 505
خطبات طاہر جلد ۲ 505 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء جوڑیں۔اس کے نتیجہ میں پھر وہ چیز نصیب ہوتی ہے جس کو بعض لوگ معجزہ کہتے ہیں یعنی خدا کا تعلق انسان کی عملی زندگی میں الہی نصرت بن کر داخل ہو جاتا ہے اور وہ نصرت انسان کو خود بھی نظر آنے لگتی ہے۔آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ ایک زندہ اور صاحب اقتدار ہستی میرے ساتھ ہے اور غیروں کو بھی وہ نصرت نظر آنے لگتی ہے۔یہ وہ دوسرا حصہ ہے اس مضمون کا جسے روحانیت کہتے ہیں۔روحانیت کے بغیر آپ مادیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔جب تک آپ اس یقین کے ساتھ زندہ نہیں رہتے کہ خدا میرے ساتھ ہے، وہ مجھ سے پیار کرتا ہے، خدا ایک صاحب اقتدار ہستی ہے جو میرے لئے دنیا میں تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے اور کرتی ہے، دنیا جو چاہے کرے لیکن خدا میری حفاظت فرمائے گا، اس وقت تک دنیا میں روحانی انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا۔یہ وہ حقیقت ہے جو انسان کے مقاصد کو واضح اور اس کی کامیابی کے سامان پیدا کیا کرتی ہے۔اس کا پہلا قدم انسان کے اپنے نفس کی آزادی ہے یعنی خدا کی غلامی میں آجانا پہلا قدم ہے۔تقویٰ کی حفاظت کرنا یعنی اللہ کی یاد کو اپنا اوڑھنا بچھونا اور کھانا پینا سب کچھ بنالیا جائے اور ہر چیز پر خدا تعالیٰ کو فضیلت دی جائے یہ وہ چیز میں ہیں جو بندہ خدا کے حضور پیش کرتا ہے لیکن خدا ان چیزوں کو سمیٹ کر نہیں بیٹھ جاتا۔خدا اپنے ان بندوں پر اپنی قدرتیں ظاہر کرتا ہے ، ان سے محبت اور پیار کا سلوک فرماتا ہے ، ان کو تقویت دیتا ہے، ان کو حو صلے بخشتا ہے، ان کی نگاہوں کو حقیقی آزادی عطا کرتا ہے۔پھر ان کے لئے کوئی جھجک نہیں رہتی وہ کوشش کر کے آزاد نہیں ہوتے بلکہ آزادی ان کی فطرت بن جاتی ہے۔دنیا جن چیزوں کو بہت پسند کرتی ہے اور ان میں لذتیں ڈھونڈتی ہے ان کو ان چیزوں میں حقارت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، گندگی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ایسے انسانوں کے جو باخدا ہو جائیں نظریے بدل جاتے ہیں، معیار بدل جاتے ہیں، ان کی آنکھیں ، ان کے وقت، ہر چیز میں فرق پڑ جاتا ہے۔چنانچہ ایسے لوگ جب دنیا کی پیروی کرنے والوں کود یکھتے ہیں تو کبھی ان کو وہم بھی نہیں آتا کہ پتہ نہیں ہم کیا چیز کھو بیٹھے ہیں اور کیا ان کو حاصل ہو رہا ہے۔ان کے لئے تو وہی مثال ہے جس طرح مردار خور جانور کسی مردار پر بیٹھے ہوئے منہ مار رہے ہوں اور کوئی انسان پاس سے گزرے تو کیا کبھی وہ یہ سوچے گا کہ اوہ میں کس نعمت سے محروم ہوں، یہ تو اپنی مرضی کے مطابق ہر چیز کھارہا ہے اس