خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد ۲ 480 خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۳ء کے اندر آپ کامل توحید کا عکس پائیں گے۔اس مضمون کو جو دراصل تو حید ہی کی شاخیں ہیں قرآن کریم یوں بیان فرماتا ہے : تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَوتِ L طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبُ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرُ (الملک : ۲-۵) میں نے اس وقت جو آیات تلاوت کی ہیں ان کے بہت سے معانی ہیں لیکن اس موقع پر جو معانی چسپاں ہوتے ہیں میں ان کا تفسیری ترجمہ کروں گا۔فرمایا تَبَرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ مبارک ہے وہ ذات جو بڑی بابرکت ہے، جس کے ہاتھ میں ساری کائنات کی تخلیق کی چابیاں ہیں اور ملک اس کے ہاتھ میں ہیں۔وہ مالک ہی نہیں بلکہ ملک بھی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔وہی ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور ایسی حالت میں پیدا کیا کہ تم ایک جدو جہد میں مبتلا ہو چکے ہو۔تم موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہو اور آزمائش کے ایک دور سے گزر رہے ہو۔یہ اس نے اس لئے کیا تا کہ پہچان لے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے لیکن یہ جو جد وجہد ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ تم دو خداؤں کی پیداوار ہو بلکہ تم ایک ہی خدا کی پیدا وار ہو اور اگرتم یہ دیکھنا چا ہو کہ کائنات کا مالک صرف ایک ہے تو کائنات پر نظر ڈال کر دیکھو هَلْ تَرى مِنْ فُطُورِ سات آسمانوں کی وسعتیں لامتناہی کا ئنا تیں تمہیں دکھائی دیں گی۔هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورِ کیا ایک بھی رخنہ تمہیں کہیں نظر آئے گا ؟ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَ هُوَ حَسِيرُ دوباره نظر دوڑا کر دیکھ لو، پھر کوشش کر لو تمہاری نظر تھکی ہوئی واپس تمہاری طرف لوٹ آئے گی لیکن کوئی رخنہ نہیں پائے گی ، کوئی تضاد اس کو نظر نہیں آئے گا۔یہ وہ اعلان ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک کائنات کے مطالعہ کا تعلق ہے اس میں آپ کو کہیں بھی دو ہستیوں کا ثبوت نظر نہیں آتا، کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ گویا کائنات کو دو مختلف وجودوں نے پیدا کیا ہو۔پھر سوال یہ ہے کہ انسان کیوں