خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 42

خطبات طاہر جلد ۲ 42 خطبه جمعه ۲۱ / جنوری ۱۹۸۳ء انتظام کرے اور ان کو نیک کاموں میں اپنے ساتھ شامل کرے تو انشاء اللہ یہ ایک نیکی آئندہ دس نیکیوں پر منتج ہوگی اور وہ دس نیکیاں آئندہ سینکڑوں نیکیوں پر منتج ہوں گی۔حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کو نیک کاموں سے وابستہ کرنا اس پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔اس لحاظ سے جماعت کی تمام تنظیمیں اس بات کی ذمہ دار ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ممبران کو نہ صرف نیک کاموں کی طرف بلائیں بلکہ ان پر ذمہ داریاں ڈالنے کی کوشش کریں کیونکہ ذمہ داری کا احساس بھی انفرادی تربیت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ امر واقعہ ہے کہ اگر آپ خصوصیت سے پچھلی دو نسلوں کو دیکھیں جو جماعت احمدیہ میں تنظیموں کے قائم ہونے کے بعد پیدا ہوئیں تو بلا شبہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہزار ہا احمدی عورتیں اور مرد ایسے ہیں کہ اگر وہ ذمہ داری کے کام سے الگ رہتے اور ان کے سپرد یہ کام نہ کئے جاتے تو ان کی تربیت کی شکلیں آج کی تربیت کی حالت سے بالکل مختلف ہوتیں۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت کے جتنے بھی عہدیدار ہیں خواہ وہ سیکرٹریان مال ہوں ، خواہ وہ صدران ہوں، خواہ ان کو آپ زعیم کہیں یا قائد کہیں یا لجنہ کی سیکرٹریات ہوں وہ سب کے سب اس بات کے گواہ ہیں کہ اگر ان پر جماعتی ذمہ داریوں کے بوجھ نہ ڈالے جاتے تو ان کی انفرادی تربیت کی حالت موجودہ تربیت کی حالت سے ضرور مختلف ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ نیک کام کرنے کی توفیق پانا اور نیک کام کروانے کی توفیق پانا، یہ بھی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔جب لجنہ تربیت کرتی ہے تو نیک کام کرنیکی توفیق پاتی ہے اور جب دوسروں سے کام لیتی ہے تو نیک کام کروانے کی توفیق پاتی ہے۔اور جس شخص کو نیک کام کروانے کے لئے اپنے وقت کی قربانی کا مزا آنا شروع ہو جائے وہ بہت تیزی کے ساتھ روحانی میدانوں میں ترقی کرنے لگتا ہے۔پس لجنہ کو چاہئے کہ ان بچیوں کے سپر د دینی کام کریں ، دین کی خدمت کے کام ان کو سونپیں، ان کو اپنے وقت کا بہتر مصرف بتائیں ، ان کو نیکی کرنے کی مزید لذتوں سے آشنا کریں ، ان پر چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں ڈالیں تا ان کو یہ خیال نہ رہے کہ ہم اور چیز ہیں اور لجنہ کی عہدیداران کوئی اور چیز ہیں، وہ حکم دینے والی ہیں اور ہم حکم قبول کرنے والی ہیں بلکہ چاہئے کہ ان کو ہر نیکی کے کام میں شامل کریں۔حقیقت یہ ہے کہ لجنہ کے کام اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ ان کی انجام دہی اب لجنہ کی چند عہد یداروں کے بس کی بات نہیں رہی اس لئے انہیں اپنی ضرورت کی خاطر بھی مزید کارکنات