خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 41
خطبات طاہر جلد ۲ 41 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء گی لیکن اس تعریف کی ہمیں ایک ذرہ بھی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔ہماری تمام تر توجہ اپنے رب کی رضا کی طرف رہنی چاہئے کیونکہ اس کی محبت اور پیار کی ایک نظر انسان کی دنیا بھی سنوار دیا کرتی ہے اور اس کی عاقبت بھی سنوار دیا کرتی ہے۔پس احمدی خواتین کو بھی ہمیشہ یہی مقصود بنالینا چاہئے کہ قطع نظر اس کے کہ ان کے معاشرے نے ان کے کسی فعل پر کیا ردعمل دکھایا ، اس بات سے بے پرواہ ہوکر کہ ان کے خاوندوں اور بھائیوں اور بہنوں نے انہیں کس حال میں دیکھا اور اس بات سے مستغنی ہو کر کہ جماعتی اداروں نے ان کی تحسین کی یا نہ کی ، وہ اس یقین کے ساتھ زندہ رہیں کہ جو فعل انہوں نے محض رضائے باری تعالیٰ کی خاطر کیا ہے اس کے نتیجے میں اللہ کے پیار کی نظریں ان پر پڑ رہی ہیں اور جس انسان پر خدا کے پیار کی نظریں پڑ جائیں وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ محض اس کی محبت میں سرشار ہو کر محض اس کی رضا کی خاطر ہم پہلے سے بڑھ کر نیکیوں کی طرف قدم مارتے رہیں۔اس ضمن میں میں دو باتیں ایسی کہنا چاہتا ہوں جن میں سے ایک کا تعلق لجنہ کی تنظیم سے ہے اور دوسری کا تعلق مردوں سے ہے۔لجنہ کی تنظیم کو چاہئے کہ اس صورت حال سے پورا فائدہ اٹھائے۔حقیقت یہ ہے کہ نیکی کسی منزل کا نام نہیں بلکہ ایک سفر کا نام ہے۔کسی مقام کو نیکی نہیں کہتے بلکہ ایک حرکت کو نیکی کہتے ہیں۔یہ اسی وقت تک نیکی رہتی ہے جب تک جاری وساری رہے۔جہاں وہ کھڑی ہو جائے وہاں وہ نیکی کا نام پانے سے بھی محروم ہو جاتی ہے اور نیکی کی تعریف سے نکل جاتی ہے۔پس ہر نیکی کو ایک اور نیکی کی شکل میں ڈھلنا چاہئے اور ہر خوبی کو ایک نئی خوبی کو جنم دینا چاہئے اس لئے جماعتی تنظیموں کا کام ہے کہ ہر وہ دل جس میں تھوڑی سی پاک تبدیلی بھی پیدا ہوئی ہو اس کے لئے آئندہ نیکی کی راہیں آسان کریں اور آئندہ نیک قدم اٹھانے کے سلسلہ میں ایسے افراد کی رہنمائی اور مدد کریں۔وہ تمام احمدی بچیاں اور خواتین جنہوں نے پردے کے سلسلے میں نیک قدم اٹھایا ہے، ان کے دل میں اس وقت خاص طور پر نیک آواز کو قبول کرنے کا مادہ پیدا ہو چکا ہے اور ان کی توجہ اپنے رب کی طرف ہے اور وہ اس خیال سے لذت یاب ہو رہی ہیں کہ ہم نے خدا کی رضا کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے۔پس اس وقت اگر لجنہ اماءاللہ ان کو مزید قربانیوں کی راہیں دکھائے اور ان کی تربیت کا