خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 470
خطبات طاہر جلد ۲ 470 خطبه جمعه ۹ ر ستمبر ۱۹۸۳ء ہے وہ کچھ بھی نہیں۔اور اگر محض دنیوی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو ہرگز جماعت کی یہ طاقت نہیں کہ وہ اس عظیم الشان کام کو سرانجام دے سکے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی آسان طریق ناممکن کاموں کو ممکن بنانے کا مقرر فرما رکھا ہے۔وہ بہت ہی آسان اور بہت ہی پیارا اور بہت ہی دلنو از طریق ہے جس میں کوئی مشکل اور مشقت نہیں بلکہ لطف ہی لطف ہے۔پرسوں کراچی میں ایک غیر از جماعت دوست کے سوال کے جواب میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پنجابی الہام بیان کیا۔اس الہام میں یہ بات بیان کی گئی ہے جو میں آپ کے سامنے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔وہ الہام شعر کے ایک مصرعہ میں ہے: عے جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو ( تذكرة صفحه : ۳۹۰) پس دنیا کو اپنا بنانے کے لئے دور ستے ہیں۔ایک یہ ہے کہ براہ راست دنیا کے پیچھے پڑا جائے اور دنیا کو اپنا بنایا جائے۔یہ بہت ہی مشکل اور وسیع کام ہے اور ایک چھوٹی سی جماعت کے لئے ناممکن ہے کہ ساری دنیا کے پیچھے پڑ کر اسے اپنا بنا سکے۔اس کا سب سے آسان طریق یہ ہے کہ دنیا کے مالک کو اپنا بنا لیا جائے جو ایک ہی ہے اور اس سے تعلق جوڑنا ہر بندہ کے بس میں ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اتنی بڑی ذمہ داری سونپی کہ آج کے زمانہ کی دنیا کو خدا کے نام پر آنحضرت ﷺ کی غلامی میں اکٹھا کیا جائے تو بظاہر یہ کام ناممکن تھا لیکن ایک چھوٹے سے مصرعہ میں اس کا حل بھی بیان فرما دیا کہ اس طریق پر یہ کام کرو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی احمدی موجود ہیں خواہ وہ احمدی انڈونیشیا کا ہو یا سنگاپور کا ، برما کا ہو ی ملائشیا کا ، جاپان کا ہو یا چین کا ، ان میں سے ہر احمدی اللہ تعالیٰ کا ہونے کی کوشش کرے کیونکہ جب تک وہ خدا کا نہیں ہوتا اس کی خاطر جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے دنیا کو اسلام کی طرف لانے کی اس میں استطاعت نہیں ہوگی۔یہ اتنا عظیم الشان الہام ہے اور اس کی اتنی گہرائی ہے اور ایسی عظیم الشان حکمت اور فوائد کی باتیں اس میں بیان کر دی گئی ہیں کہ انسان اس پر جتنا غور کرتا چلا جائے اتنا ہی زیادہ طبیعت لطف اٹھاتی چلی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور روح جھکتی چلی جاتی ہے۔اس میں عمل سے نہیں روکا گیا، نہ اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ سب دنیا کو اپنی طرف کھینچ کر لاؤ بلکہ دنیا کو کھینچ کر لانا