خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 466
خطبات طاہر جلد ۲ 466 خطبه جمعه ۹ ستمبر ۱۹۸۳ء ایک ممبر کے طور پر بار ہا وہاں جانے کا موقع ملا لیکن بحیثیت خلیفہ امسیح میں سجھتا ہوں کہ اس سے پہلے نہ کوئی مشرقی پاکستان اور نہ سیلون بلکہ اس رخ پر بھی کوئی دورہ کسی خلیفہ کا نہیں ہوا اس لئے مجھے خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر مشرق کے لئے اسلام کی نئی ترقیات کا دروازہ کھولنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس پہلو سے حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیشگوئی ایک اور رنگ میں بھی پوری ہو رہی ہے کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا کیونکہ مشرق بعید کی جتنی قومیں ہیں ان پر مغرب کا سورج بذریعہ احمدیت طلوع کرنے والا ہے لیکن اس دورے میں ایک کمی محسوس ہو رہی ہے اور وہ ہمارا انڈو نیشیا نہ جاسکتا ہے کیونکہ اس سے پہلے جب بھی خلفاء کی مشرق یا مشرق بعید آنے کی باتیں ہوئیں ہمیشہ سب سے نمایاں اور سب سے اہم ملک جو سامنے آتا رہا وہ انڈو نیشیا ہی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بعض احمدیوں کو ایسی رو یا دکھائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈونیشیا نہ جا سکنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ پہلے سے ہی تقدیر الہی میں مقدر تھا لیکن اس کے بدنتائج نہیں نکلیں گے بلکہ ان خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اس فعل میں بھی برکت ڈالے گا اور انڈونیشیا کے لئے بھی ترقی کے بہت سے سامان پیدا فرمائے گا۔جب ہم نے انڈونیشیا کے دورہ کے متعلق سوچنا شروع کیا تو آغاز میں اس معاملہ کو جماعت پر روشن نہیں کیا گیا بلکہ تحریک جدید کے وہ چند عہدیدار جن کا اس دورے کے انتظامات سے تعلق تھا صرف ان کو ہی بتایا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے دو مختلف آدمیوں کو جن ( کو ) اس دورے کا کوئی بھی علم نہیں تھا بذریعہ خواب اس دورہ کے متعلق اطلاع دی۔ان میں سے ایک دوست ہمارے خاندان سے ہی تعلق رکھتے ہیں ان کا بڑے تعجب کے اظہار مشتمل پر ایک خط مجھے ملا اور انہوں نے یہ پوچھا کہ میں نے ایک ایسی خواب دیکھی ہے جس سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ کہیں آپ انڈو نیشیا جانے کا پروگرام تو نہیں بنا ر ہے۔ان کی خواب یہ تھی کہ میں انڈونیشیا سے باہر لیکن قریب ہی کسی جگہ بیٹھا ہوا ہوں اور انڈو نیشیا میں تبلیغ اسلام کی سکیم بنارہا ہوں اور انہوں نے جو تبلیغی سکیم بناتے ہوئے دیکھا، مجھے تو وہ جانتے تھے باقی دوستوں کو انہوں نے نہیں پہچانا کہ وہ کون ہیں لیکن ایک ایسا کمرا ہے جس میں میرے سوا اور بھی چند لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم بڑے انہماک کے ساتھ انڈونیشیا کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے لئے بڑے پیمانے پر فتح کرنے کا پروگرام بنارہے ہیں۔