خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 430

خطبات طاہر جلد ۲ 430 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۳ء کرتی ہیں۔اس قسم کی اور بھی بعض آیات میں نے منتخب کی ہیں کہ وقتاً فوقتاً آپ کے سامنے رکھتا رہوں تا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا پیار بھرا مزاج سمجھ آئے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ سائل اور مسئول میں ایک تعلق ہوتا ہے۔وہ تعلق کیسا ہونا چاہئے اسے مسئول طے کرے گا نہ کہ سائل۔اگر سائل بد تمیزی سے دعا کرتا ہے تو مسئول اسے ماننے کا ہر گز پابند نہیں ہے۔مسئول کا ایک اپنا مزاج ہے ، اس کی اپنی اندرونی سرشت ہے ، اسے تو وہی چابی لگے گی جو اس کے مزاج کے مطابق ہو، اسے کسی دوسرے تالے کی چابی تو نہیں لگ سکتی۔پس اللہ تعالیٰ نے مختلف وقتوں کی دعائیں محفوظ کر کے مختلف حالات کے ساتھ انہیں منسلک کر دیا ہے یعنی یہ نہیں کہ ہمیشہ ایک ہی طریق رہے گا بلکہ قرآن کریم فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ( الرحمن : ۳۰) تم نہ سمجھنا کہ اب ایک دعا کا طریق آگیا تو تمہاری سب دعائیں قبول ہو جائیں گی وہ تو شان بدلتا رہتا ہے۔دیکھو! اس دنیا میں موسم اور حالات بدلتے رہتے ہیں اس کے علاوہ تمہارے مزاج اور صبح و شام کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں اس لئے تمہیں اپنے رب قدیر سے متعلق پوری طرح واقفیت ہونی چاہیئے چنانچہ اس نے ہر موقعہ اور ہر حال کی دعا الگ الگ سکھائی ہوئی ہے۔پس آج میں نے یہ دعا اس لئے بتائی ہے کہ میں آپ کو دعا کی ایک تحریک کرنا چاہتا ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے بڑے پیار، محبت، یقین ، حوصلہ اور توکل کے ساتھ اس طرح دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ رحمت کے ساتھ آپ کی طرف مائل ہونے پر مجبور ہو جائے۔خدا تعالیٰ کو مجبور تو نہیں کیا جا سکتا لیکن بعض اوقات محبت اور پیار میں ایسا کہہ دیا جاتا ہے۔تو میں نہایت عجز ، محبت اور پیار سے کہتا ہوں کہ اس طرح دعائیں کریں کہ گویا اللہ تعالیٰ انہیں ماننے پر مجبور ہو جائے۔مجبوری کا لفظ مختلف حالات میں مختلف معنی دیتا ہے مثلاً ایک شخص جو بے حد شفیق ہواس کے متعلق جب ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ مجبور ہو گیا تو یہ مراد نہیں ہوتی کہ آپ نے اسے مجبور کیا بلکہ اس کی اندرونی شفقت ہی اس کیفیت کی ہے کہ اس نے اسے مجبور کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ (الاعراف: ۱۵۷) تو اس سے صاف پتہ چلا کہ رحمت کا ایک ایسا رشتہ ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات تک پہنچا جا سکتا ہے۔غلبہ مانگنا ہوتب بھی آپ رحمت کے ذریعہ پہنچ سکتے ہیں، علم حاصل کرنا ہو تب بھی رحمت کے ذریعہ پہنچ سکتے ہیں ،سفر میں برکت مانگنی ہو