خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 418
خطبات طاہر جلد ۲ 418 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۳ء بشارت اور خوشی کی خبر ہونے کے باوجود ایک گہرا غم بھی پیدا کر دیتی ہے۔جس شہادت کا میں ذکر کرنے لگا ہوں وہ ایک تاریخی نوعیت کی شہادت ہے اس لئے کہ امریکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک مخلص احمدی نوجوان کو پہلی مرتبہ شہادت کا رتبہ عطا فرمایا ہے اور امریکہ کی سرزمین نے جو شہادت کا خون چکھا ہے وہ امریکہ کے لحاظ سے تاریخ احمدیت کا پہلا واقعہ ہے اور یہ شہادت ایک عظیم نوعیت کی شہادت ہے۔ہمارے ایک نہایت ہی مخلص اور فدائی نوجوان ڈاکٹر مظفر احمد جو ڈیٹرائٹ میں رہتے تھے اور اپنے اخلاص اور دینی کاموں میں پیش روی کے نتیجہ میں انہیں قائد علاقہ امریکہ مقررکیا گیا تھا اور پھر وہ جماعت ہائے امریکہ کے نیشنل سیکرٹری بھی رہے اور شہادت کے وقت اسی عہدہ پر فائز تھے۔ان کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی تبلیغ کا موقع عطا فرمائے اور وہ اس سے مستفید نہ ہوں۔چنانچہ آج سے تین روز قبل بلیک امریکنز میں سے ایک بد قسمت شخص ان کے گھر آیا اور تبلیغ کے بہانے سے ان سے کچھ دیر گفتگو کی۔اس سے قبل بھی وہ اس وسیلہ سے آچکا تھا اور ان کی مہمان نوازی سے بھی فیض یاب ہو چکا تھا۔چنانچہ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ یہ واقعہ اپنی دلچسپی میں مخلص ہے ان کو پھر گفتگو کا موقع دیا۔جب وہ اسے گھر کے باہر تک چھوڑنے کے لئے جارہے تھے اور چھوڑ کر پلٹے ہیں تو اس نے فائر کر کے ان کو وہیں شہید کر دیا۔اسی رات دواور واقعات بھی ہوئے جس سے یہ پتہ چلتا تھا کہ یہ واقعات ایک بڑی گہری سازش کے نتیجہ میں رونما ہوئے ہیں۔ایک واقعہ تو یہ کہ ہمارے دوست لیق بٹ صاحب جو پہلے وہاں کی مقامی جماعت کے صدر تھے، اب بھی شاید ہوں ، ان کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ محفوظ رہے اور پھر اسی رات جماعت احمد یہ کے مشن ہاؤس کو بم سے اڑا دیا گیا۔اس مشن ہاؤس کے متعلق صبح کے وقت جو پہلی خبر مجھے پہنچی اس میں تشویش کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ دولاشیں وہاں سے دستیاب ہوئیں۔فوری طور پر تحقیق کی گئی تو جلد ہی یہ تسلی ہوگئی کہ کسی احمدی کی لاش نہیں اور امریکہ کی جماعت میں کسی احمدی کے لا پتہ ہونے کا علم نہیں ہو سکا۔لیکن بعد میں جب پولیس نے تحقیق کی تو اس واقعہ میں ایک عظیم الشان نشان نظر آیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حیرت انگیز تائیدی معجزہ ظاہر ہوا۔ثابت یہ ہوا کہ وہی قاتل جو مظفر احمد کو شہید کر کے وہاں سے الگ ہوا اس کا ایک ساتھی بھی تھا اور یہ دونوں لیق بٹ صاحب کے مکان پر حملہ آور