خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 412

خطبات طاہر جلد ۲ 412 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء رہا کریں، کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا کریں کہ کہیں یہ سونے کی جگہ پیتل یا تانبا تو نہیں ہے۔اس کی پہچان خدا تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اگر نیکی اور عبادت بچی ہے تو تمہاری دوسری برائیاں دور ہونی چاہئیں۔محض نماز قائم کرنا یہ کافی نہیں جب تک اس کے ساتھ از خود تمہارے اندر دوسری برائیاں کم نہ ہونی شروع ہو جائیں۔جب وہ کم ہوں گی تب خدا کہے گا کہ ہاں واقعی تم عبادت کرتے ہو ورنہ نہیں۔ہمارے معاشرہ میں بعض چھوٹی چھوٹی باتیں موجود ہیں جن سے بعض احمدی بھی متاثر ہو چکے ہیں۔ان میں سے دو چیزوں کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔عبادت میں ترقی کریں اور کوشش اور جد و جہد اور دعا کریں کہ اے اللہ تعالیٰ ! یہ برائیاں ہم سے دور فرمادے۔ایک ان میں سے بیہودہ سرائی ، لغو کلام اور گالی گلوچ سے اپنی زبان گندا کرنا ہے۔معاشرہ اتنا گندا ہو چکا ہے کہ بچے ماں باپ کو اور ماں باپ بچوں کو ماں بہن کی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور بات بات پر بددعائیں دیتے ہیں۔اس قدر ظالمانہ معاشرہ ہے کہ زمیندار اپنے جانوروں کو جن پر اس کا گزارہ ہے موت کی دعائیں دیتا ہے اور وہ کمہار جس کا رزق گدھوں سے وابستہ ہے وہ ہر موڑ پر گدھے کو کہتا ہے کہ تو مر اور دفع ہو۔جہاں ایسا گندا معاشرہ ہو چکا ہو وہاں جب تک آپ اپنے اندر بعض خوبیاں پیدا نہیں کریں گے یہ برائیاں آپ میں ضرور راہ پا جائیں گی۔ذکر الہی زبان کو ناپا کی سے بچانے کے لئے متبادل خوبی ہے اس لئے ذکر سے اپنے منہ کو معطر رکھیں تو بدیاں ، گالی گلوچ بخش کلامی خود بخود دور ہونی شروع ہو جائے گی۔محض آپ کسی کو کہیں کہ گالیاں نہ دو تو وہ اس بری عادت کو نہیں چھوڑے گا لہذا اسے ذکر الہی اور دور د شریف کی طرف توجہ دلائیں۔اسے کہیں کہ اللہ تعالی زیادہ سے زیادہ یاد کرنے کی کوشش کیا کرو اور آنحضرت ﷺ پر درود بھیجا کرو اور سوچ سمجھ کر ایسا کیا کرو۔جس شخص کو یہ عادت پڑنی شروع ہو جائے گی تو جس قدر یہ عادت راسخ ہوگی اسی قدر بخش کلامی کی عادت ختم ہوتی چلی جائے گی، کیونکہ زیادہ طاقت ور اور زیادہ مثبت قدر نے اس کی جگہ گھیر لی ہے۔دوسرا امر گھروں میں بے وجہ جھگڑا کرنا ، میاں بیوی کا تیز کلام کرنا، ایک دوسرے کو طعنے دینا، خاوندوں کا یہ سمجھنا کہ ہم ایک لونڈی اٹھا لائے ہیں جو ہمارے ماں باپ کی بھی اسی طرح لونڈی ہے جس طرح ہماری ہے اور اس کی اپنی ذاتی کوئی حیثیت ہی نہیں اور نہ ہی اس کے کوئی احساسات