خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 411

خطبات طاہر جلد ۲ 411 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء کہنے سے بدیاں نہیں چھوڑا کرتا۔ہاں اگر کوئی قوم نیکیاں اختیار کرے تو بدیاں خود بخود زائل ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت جماعت احمدیہ کا یہ معیار ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بہت بڑا احسان ہے کہ ایسے انسانوں کی ایک جماعت پیدا کر دی جو نیکی کی باتیں زیادہ سنتی ہے اور اس پر جلد عمل کرتی ہے اور برائیوں کے خلاف ان میں ایک طبعی اور فطری بغاوت پیدا ہو چکی ہے لہذا منافقوں اور مخالفین جماعت کو بہت کوشش اور جدوجہد سے احمدیوں میں برائیاں داخل کرنی پڑتی ہیں۔دفاع کی طاقت از خود پیدا ہوگئی ہے اور یہ دفاع کی طاقت نیکیوں کا طبعی نتیجہ ہے۔جب تک نیکیاں آپ میں رہیں گی دفاع کی طاقت بھی موجود رہے گی۔جب نیکیاں ختم ہوں گی تو یہ دفاع کی طاقت بھی خود بخود ختم ہوتی چلی جائے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:۱۲) کہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نہ تو بدیاں پیدا کرتا ہے اور نہ انہیں یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی قوم میں راہ پا جائیں لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ قوموں کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انہیں خدا تعالیٰ ہرگز تبدیل نہیں کیا کرتا یہاں تک کہ يُخَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وہ خود تبدیل کر دیں اور جو انہیں حاصل ہوا ہے اسے چھوڑنا شروع کر دیں۔پس یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ آپ نیکی کی بات سنتے اور اس پر عمل کرنے لگ جاتے ہیں اس کی برعکس صورت جب پیدا ہوتی ہے تو قو میں ہلاک ہو جایا کرتی ہیں۔جب قو میں تنزل کی حالت میں ہوتی ہیں تو صورت حال بالکل مختلف ہوتی ہے۔وہ نیکی کی باتیں سنتے ہیں اور عمل نہیں کرتے ،بدی کی باتیں سنتے ہیں اور دوڑ دوڑ کر عمل کرتے ہیں۔پس اپنا یہ امتیاز قائم رکھیں۔گزشتہ چند خطبات میں جو تحریکات کی گئی ہیں اور عبادت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اس سے متعلق مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کا نمایاں اثر نظر آرہا ہے۔لوگ بکثرت ربوہ کی مساجد میں آرہے ہیں اور بعض جگہ سے یہ اطلاع بھی ملی کہ مساجد بھر بھر کر چھلکنے لگ گئی ہیں۔یہ ایک نہات ہی پیاری تصویر ہے کہ یہاں کی مسجد میں چھلک رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ اس خوبی کو جاری رکھے اور قائم و دائم رکھے کہ جماعت احمد یہ نیکی کی باتیں سنے اور اس پر عمل کرے لیکن وقتا فوقتا اپنی نیکی آزماتے