خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد ۲ 387 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۳ء آپ نے بھیڑ کے بچے اور بھیڑیے کا پانی پینے والا قصہ بھی سنا ہوا ہے اور یہ قصہ بھی سنا ہوا ہے کہ ایک دفعہ ایک مرد جو ہر وقت لڑائی پر تلا رہتا تھا اپنی بیوی کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی نقص نکال ہی لیتا تھا، کبھی روٹی جل گئی اور کبھی کچھی رہ گئی کبھی نمک زیادہ کبھی مرچ زیادہ ہوگئی اور کبھی دونوں کی کمی واقع ہوگئی کبھی پانی گرم، کبھی چائے ٹھنڈی۔اس بیچاری کو تو مصیبت پڑی ہوئی تھی۔ہر روز کسی نہ کسی بہانے فساد پر آمادہ رہتا اور اسے زدوکوب کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ اس کی بیوی نے خوب تیاری کی ہر چیز کی بہت ہی زیادہ احتیاط کی ، نمک مرچ زیادہ نہ کم ، پانی بھی مناسب، چائے بھی مناسب، اور ہر چیز درست کر دی، روٹی بھی بہت احتیاط سے پکائی اور اپنے خاوند کے چہرہ کے آثار دیکھنے لگی۔اس نے ذہنی طور بہانہ ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن کوئی بہانہ ہاتھ نہ آیا۔اس نے فساد تو بہر حال کرنا تھا ارادہ جو تھا، ادھار کھائے بیٹھا تھا۔اس نے بالآخر یہ ترکیب اختیار کی کہ بیوی سے کہا کہ او ظالم عورت تو روٹی تو ہاتھ سے پکارہی ہے تیری کہنیاں کیوں ہل رہی ہیں اور اس بات پر اسے مارنا شروع کر دیا۔خیر ! بیوی مارکھا کر بیٹھ گئی۔پھر جب وہ دوبارہ کھانا کھانے لگا تو بیوی نے اس کی داڑھی پکڑ لی اور کہا۔” او بد بخت تو کھانا تو منہ سے کھا رہا ہے تیری داڑھی کیوں ہل رہی ہے۔“ پس میں آپ کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ کسی احمدی نے داڑھی بھی نہیں پکڑنی کسی احمدی کا ہاتھ کسی داڑھی پر نہیں اٹھے گا اور کسی کی عزت اور مال اور جان سے نہیں کھیلے گا چاہے اس کے لئے اسے انتہائی صبر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ہاں اللہ کی تقدیر آزاد ہے وہ مالک ہے اس کا ہا تھ اگر کسی داڑھی پر پڑ جائے تو کوئی بال باقی نہیں رہنے دیتا۔جس کی داڑھی بھی ذلیل کرنے کے لئے چنے یہ اس کی مرضی ہے، اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں لیکن اس معاملہ میں بھی ہماری دعائیں ایسے لوگوں کے حق میں ہونی چاہئیں۔نہ صرف صبر کرنا ہے بلکہ ان کے حق میں دعائیں کرنی ہیں کیونکہ جس پر خدا کا غضب نازل ہوا سے ملیا میٹ کر دیتا ہے تباہ کر کے رکھ دیتا ہے اور ایسی قوموں کو قصہ پارینہ بنادیا کرتا ہے۔پس ہم تو رحمتہ للعالمین کے غلام ہیں اور اسی کے غلام رہیں گے کسی کی تباہی کا حال دیکھ کر وقتی جوش اور وقتی خوشی کے نعرے بھی بے وقوف لوگ لگایا کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دکھ خواہ کسی کا بھی ہو دکھ ہی ہے اور خدا کا غضب تو بہت ہی بڑا دکھ ہے۔آنحضرت عے کے بچے غلام کی حیثیت سے ہمیں لازماً دعائیں کرنی چاہئیں اور یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ ہم کسی پر عذاب نازل ہوتا بھی نہ