خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 365

خطبات طاہر جلد ۲ 365 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء سے بھی امن میں آگیا ہوں اور میری کوئی گستاخی ایسی نہیں ہوگی جسے اللہ تعالیٰ معاف اور درگزر نہ فرمائے اور گویا میں خدا کی بخشش کا حق رکھتا ہوں، ایسا انسان مردود ہو جاتا ہے اور خواہ کتنے بڑے بلند مقام پر فائز ہوا تنا ہی اس کا تنزل زیادہ خطر ناک اور عبرتناک ہوتا ہے۔پس تکبر کی آنکھ خواہ نیکی کی ہو وہ بہت ہی خطر ناک ہے اس لئے اپنے کمزور بھائیوں پر رحم کی نگاہ ڈالیں ان کے لئے بخشش کی دعا کریں اور ان ملائکہ میں شامل ہو جائیں جو خدا کے بندوں کے لئے دن رات دعائیں کرتے ہیں اور مغفرت مانگتے ہیں۔پس حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ کی پیروی کریں کیونکہ آپ سے بلند تو نیکی کا مقام کسی کو حاصل نہیں ، آپ سے زیادہ رحمت اور شفقت علی الناس کسی اور نے نہیں دکھائی، کسی کمزور سے کمزور انسان سے بھی آپ نے تمرد کی راہ اختیار نہیں فرمائی ، تکبر کا طریق اختیار نہیں فرمایا بلکہ ہر ایک سے تواضع کے ساتھ ملتے تھے اور سب کے لئے رحمت اور بخشش کی دعا مانگتے تھے۔ہر ایک کو محبت و پیار اور رافت و شفقت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ ناممکن تھا کہ گنہگار انسان حضور اکرم ﷺ کی صحبت میں آکر وہ فیض پا جاتے جو انہوں نے پایا، اتنا مقدس وجود کہ گنہگاروں کو پاک کرتار ہا ہمیشہ رحم اور شفقت کی نظر سے ان کو پاک کیا غصہ اور نفرت کی نگاہ سے ان کو نہیں دیکھا۔پس آج کا دن مبارک ہے ان نیکی کرنے والوں کے لئے جو آج اپنی نیکیاں اپنے بھائیوں میں جاری کرنے کی سعی کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے اور خدا سے یہ دعا کریں گے کہ اے خدا! ہمیں اپنی نیکی کا کوئی زعم نہیں ہم تیرے اس پیغام کو خوب سمجھتے ہیں کہ فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم:۳۳) کہ اے لوگو! اپنے آپ کو پاک مت قرار دو، یہ لغو عادت چھوڑ دو، یہ بے کار مشغلہ ترک کر دو کہ اپنی نیکیوں کے گن گانے لگو اور یہ سمجھنے لگو کہ تم بہت پاک ہو هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى صرف خدا جانتا ہے کہ کون سچے معنوں میں پاک اور متقی ہے اس کے سوا کسی کو کوئی علم نہیں۔پس اس عجز کے ساتھ جو بندے خدا کے حضور حاضر ہوں اور یہ عرض کریں کہ اے خدا! ہمیں کچھ علم نہیں کہ ہم نے کیا حاصل کیا، کیا کھویا اور کیا پایا تو جانتا ہے لیکن ہمیں بظا ہر کچھ ایسے لوگ بھی نظر آ رہے ہیں جن کو وہ توفیق نہیں ملی جو تیری رحمت نے ہمیں عطا فرمائی ، پس آج ہم تیرے حضور یہ دعا کرتے ہیں کہ انہیں بھی نیکیوں کی توفیق عطا فرما، ان کے قدم بھی ہمارے ساتھ ملا دے تا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو