خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد ۲ 364 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء سارے سال کی عبادتوں کے باوجود پھر بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ تہی دامن ہیں، بے حقیقت ہیں، انہیں کوئی بھی نیکی کی توفیق نہیں ملی۔وہ بھی اس جمعہ کا انتظار کرتے ہیں اور وہ بھی جنہیں قسمت اور مقدر کے ساتھ کبھی تہجد کی تو فیق ملتی ہے۔پس یہ وہ مبارک دن ہے جس کے لئے بہت سی آنکھیں منتظر تھیں، جس کے لئے بہت سے دل دھڑک رہے تھے، محض اس امید پر کہ ہو سکتا ہے اس مبارک دن میں کوئی ایسی مبارک گھڑی میسر آجائے کہ ہماری تمام عمر کی کوتاہیاں بخشی جائیں، تمام غفلتوں سے در گذر فر ما یا جائے اور آئندہ کے لئے ہماری زندگی سنور جائے۔اس پہلو سے وہ سب ہی جن کو پہلے عبادت کرنے کی کسی قسم کی تو فیق نہیں ملی ان کو ہر گز تحقیر کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے کیونکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا یہ جمعہ رد کر دیا جائے گا۔اللہ کی بخشش کی امید لے کر جو دل زندہ رہے اور خدا کی رحمت کی ایک جھلک پانے کے لئے جو آنکھ انتظار کرتی رہے اس دل کو مردود دل اور اس آنکھ کو نا مراد آنکھ نہیں قرار دیا جا سکتا۔عین ممکن ہے کہ اللہ ایسے دلوں پر بھی آج رحم نازل فرمائے جو اس سے پہلے اللہ کے ذکر سے معطر نہیں تھے۔عین ممکن ہے کہ اللہ ان پر بھی فضل فرمائے جن کو اس سے پہلے عبادت کا ذوق نہیں تھا اور اس جمعہ سے وہ ایک نیا وجود لے کر باہر نکلیں۔پس وہ لوگ جن کو نیکی کی توفیق ملی ان کا یہ تو فرض ہے کہ اپنے بھائیوں کے لئے دعا کریں جن کو نیکی کی توفیق نہیں ملی لیکن یہ حق نہیں ہے کہ وہ ان کو نفرت اور حقارت کی آنکھ سے دیکھیں۔نیکی کا مضمون ایک بہت ہی مشکل اور پیچیدہ مضمون ہے اور ہر وقت انسان ایک خطرہ کے مقام پر رہتا ہے۔باوجود یکہ بلندی ہر انسان کے لئے ایک بہت ہی مطلوب چیز ہے اور اس کی تمنا ہر دل میں پائی جاتی ہے لیکن جتنا زیادہ وہ بلند ہوتا ہے اتنے ہی زیادہ اس کے لئے خطرات بھی پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔بعض اوقات ایک قدم کی ٹھو کر اسے گراتی ہے اور ہمیشہ کے لئے اس کی ساری عمر کی کوشش کو نہ صرف نا کام کر دیتی ہے بلکہ وہ ساری رفعتیں اس کے لئے ہلاکت کا موجب بن جاتی ہیں اور جتنی بڑی رفعت عطا ہوتی ہے اتنی ہی بڑی ہلاکت نصیب ہو جاتی ہے اس لئے نیکی میں کوئی مقام محفوظ ان معنوں میں نہیں ہے کہ آپ اللہ سے امن میں آجائیں۔مقام محفوظ یہ تو ضرور ہے کہ آپ غیر اللہ سے امن میں آجاتے ہیں اور لا حوق کا وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی خوف نہیں رہتا۔لیکن اگر کوئی شخص بدقسمتی اور کم نہی سے یہ سمجھنے لگے کہ میں خدا کی طرف