خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 355
خطبات طاہر جلد ۲ 355 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء ہم جرموں اور گنا ہوں سے بچ سکیں گے۔پس تجھ سے یہ التجا کرتے ہیں کہ اس ایمان کے بدلہ میں دیکھیں مومن کتنی بڑی قیمت مانگ رہا ہے ) ہمارے پہلے گناہ بھی سارے کے سارے بخش دے اور آئندہ کے گناہوں سے بچنے کی بھی توفیق عطا فرما اور ہماری وہ بدیاں جو ہماری فطرت کے اندر داخل ہو چکی ہیں اور ہمارے وجود کا حصہ بن گئی ہیں جو دراصل گناہوں پر منتج ہوا کرتی ہیں ان سے ہمیں بچا۔یعنی ایسی بدصفات ، بد خصلتیں اور بد عادتیں، بعض حرصیں اور تمنائیں جو انسان کے ساتھ لگی رہتی ہیں اور گناہ پر آمادہ کرتی رہتی ہیں یہ سب سیات ہیں جو ہمارے وجود میں بدیوں کی شکل میں داخل ہوئی ہوتی ہیں اور وہ ہمارے وجود کا شیطان بن گئی ہیں۔جب تک تو ان کو نہیں مٹائے گا ہم آئندہ جرموں سے پاک کس طرح ہوں گے اس لئے اے اللہ ! ہم تجھ سے ہی درخواست کرتے ہیں کہ تو ان کو بھی مٹادے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک اور رنگ میں دعا کرنے کی تعلیم دیتا ہے کہ تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ہم نہیں جانتے ہماری موت کب آتی ہے۔ایمان کی حالت میں کچھ جلدی مر جائیں گے ، کچھ دیر میں مریں گے اور یہ سلسلہ لمبا دکھائی دیتا ہے، ہماری کمزوریاں بہت ہیں ہمارے گناہ زیادہ ہیں ، ہم تجھ سے لبی عمر نہیں مانگتے مگر یہ ضرور ما نگتے ہیں کہ ہمیں موت نہ دینا جب تک نیک بندوں میں نہ لکھے جاویں۔اگر تھوڑے دن مقرر ہیں تو اس نظام کو تیز فرمادے، اس سلوک رحمت کو بہت تیزی کے ساتھ جاری فرما یہاں تک کہ ہمارے پرانے گناہ جھڑ جائیں اور ہماری بدیاں دور ہو جائیں اور جب موت کا وقت آجائے تو اس وقت تیری نظر ہم پر اس طرح پڑ رہی ہو جس طرح نیک بندوں پر پڑتی ہے۔اے خدا! تو پیار سے ہمیں دیکھ رہا ہو کہ ہاں یہ ابرار ہیں۔اس انجام تک پہنچانے کے بعد پھر فرمایا کہ اب تم اپنی فتح کی دعائیں مانگو ! اب مجھے یاد کراؤ وہ وعدے جو رسولوں سے میں نے کئے تھے کہ آئندہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ اس میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جن کو عظیم الشان روحانی فتوحات عطا کی جائیں گی۔فرمایا جب تک تم ان منازل سے نہیں گزرتے اس وقت تک اس بات کا حق نہیں رکھتے کہ مجھ سے مانگو۔پہلے ابرار کی منزل تک تو پہنچو۔اگر اشرار کی منزل پر رہے تو میں دنیا کی باگ ڈور کیوں تمہارے ہاتھ میں پکڑاؤں گا۔میں دنیا کی اصلاح کے عظیم کام تمہارے سپر د کیسے کروں گا۔