خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 326

خطبات طاہر جلد ۲ 326 خطبه جمعه ۱۰/ جون ۱۹۸۳ء ساری روزہ کے اندر آجاتی ہیں۔روزہ ہمدردی کی انتہا بھی سکھاتا ہے اور خشوع وخضوع کا کمال بھی انسان کو عطا کرتا ہے، بجز کی راہیں بھی بتاتا ہے اور غریبوں کو اٹھا کر اپنے ساتھ شامل کرنے کے طریق بھی انسان کو سکھاتا ہے۔غرضیکہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ رمضان شریف ہے اور جو شخص رمضان میں سے سر جھکاتے ہوئے اور اس دروازے سے کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا رنگ اختیار کرتے ہوئے گزرے گا گویا اس نے قرآنی تعلیمات کا سارا پھل پالیا اور جو کچھ بھی قرآن لے کر آیا تھا وہ سارا اس کے نصیب میں آگیا۔۔اس تشریح کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ہم احادیث نبوی پر غور کرتے ہیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک بھی بات اپنی طرف سے نہیں کی۔آپ نے روزے کی تمام خوبیاں جو بیان فرمائی ہیں وہ مبنی بر قرآن بیان فرمائی ہیں۔آپ نے بعض اور آیات سے بھی استنباط فرمایا ہوگا۔لیکن اس آیت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ سے تو بڑا واضح استنباط فرمایا کیونکہ وہی مضمون بیان فرماتے ہیں جو اس میں بیان ہوا ہے کہ قرآن کریم کا مقصود رمضان ہے قرآن کریم کے سارے پھل رمضان سے وابستہ ہو چکے ہیں اس لئے گویا سارا قرآن رمضان کے بارے میں اتارا گیا ہے۔چنانچہ وہ ساری خوبیاں جو عبادت کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہیں آنحضرت ﷺ نے رمضان کی طرف منسوب فرما ئیں۔فرمایا باقی ساری عبادتیں ایسی ہیں جن میں بندے کے اغراض کا بھی دخل ممکن ہے مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو خالصہ اللہ کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ رمضان کے روزوں کو کلیہ اپنا کہتا ہے کہ یہ میرے ہیں اور فرماتا ہے کہ باقی نیکیوں کی جزا تو مختلف قسم کی جنتیں ہیں مگر رمضان کی جزا میں خود ہوں۔( صحیح بخاری کتاب الصوم باب فضل الصوم ) پس قرآن کریم کا سب سے اعلیٰ مقصد یعنی اللہ کو پالینا، یہ رمضان کے ساتھ وابستہ ہے۔پھر حضوراکرم کے اور بہت سے انداز میں رمضان کی خوبیاں بیان فرمانے کے ، لیکن اب وقت نہیں ہے وہ انشاء اللہ بعد میں کسی وقت بتاؤں گا۔اس وقت یہی کافی ہے کہ رمضان شریف تمام عبادتوں کا خلاصہ ہے، رمضان شریف تمام عبادتوں کا ارتقا ہے، رمضان شریف انسان کو اس مقصد کی طرف لے کر جاتا ہے جس کی خاطر انسان پیدا کیا گیا ہے، یہ انسان کو بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے میں بھی درجہ کمال تک پہنچاتا ہے اور اللہ