خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 300

خطبات طاہر جلد ۲ 300 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۳ء يَنْطِقُونَ کہ اے ابراہیم ! تو خود بڑی اچھی طرح جانتا ہے، تجھے ہم سے زیادہ پتہ ہے کہ یہ بت بولنے والے نہیں ہیں۔یہ تو بے جان چیزیں ہیں اور ان کو تو ڑ کر تو نے بڑا ظلم کیا ہے۔اس سے بھی پتہ لگا کہ قوم کے لوگ جانتے تھے کہ ابراہیم جھوٹ نہیں بول رہے۔اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا۔اَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَا يَنْفَعُكُم وَلَا يَضُر كُم تمہاری یہ بات سچ ہے کہ نہ ان بتوں نے مارا، نہ مار سکتے تھے۔یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے اور اگر مارا بھی ہوتا تو بولنے کے قابل نہیں، بالکل بے جان چیزیں ہیں ان میں کوئی بھی حقیقت نہیں۔اور جو اتنی بے حقیقت چیز ہو اس سے نہ تمہارا فائدہ وابستہ ہے نہ نقصان۔فائدہ اس لئے نہیں کہ ان میں عمل کی کوئی طاقت نہیں۔نقصان اس لئے نہیں کہ یہ کسی کو مار ہی نہیں سکتے۔لوگوں کا نقصان کیا ہوگا؟ نہ یہ حق میں بول سکتے ہیں نہ خلاف بول سکتے ہیں۔نہ حق میں کوئی فعل کر سکتے ہیں نہ خلاف کر سکتے ہیں۔تب قوم کے لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں ڈال دو۔چنانچہ فرمایا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا الِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فَعِلِینَ یعنی اگر تم نے کچھ کرنا ہے تو سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہا کہ اس کو آگ میں ڈال دو۔یہ وہ نتیجہ ہے جو انبیاء کی مخالف قو میں ہمیشہ نکالا کرتی ہیں۔جب دلائل کامل ہو جائیں، جب حجت اتمام کو پہنچ جائے تو اس کے بعد خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے، سابقہ دستور یہی رہا ہے کہ اس وقت مخالفین تنگ آکر جنگ پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور شکست تسلیم نہیں کرتے۔چنانچہ بعض مخالفین کا یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اب سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ یا تو ایمان لانے والے زبردستی ہمارے اندر واپس لوٹ آئیں یا پھر ان کو وطن سے نکال دو یا قتل کر دو۔بعض دفعہ نوٹس دیتے ہیں، اعلان کرتے ہیں کہ تمہیں تین دن دیئے جائیں گے۔یا تو بہ کر لو اور تو بہ سے مراد یہ ہے کہ تم ہمارے موقف کی طرف لوٹ آؤ یا قتل ہونا منظور کر لو یا پھر اس ملک کو چھوڑ دو۔تین دن کے سوا باقی باتیں وہی ہیں جو قرآن کریم فرماتا ہے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے کہی تھیں۔لیکن فرمایا عذاب کا صرف ایک طریقہ نہیں ہے جو مخالفین اختیار کرتے ہیں۔بعض اوقات دوسرے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ان میں سے ایک آگ کا عذاب اور زندہ جلانے کی کوشش ہے۔دور کے واقعات تو دور کے واقعات ہیں۔ہم نے تو یہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اس لئے سب سے زیادہ ان آیات کی حقیقت کو احمدی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ان پر یہ واقعات