خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 271

خطبات طاہر جلد ۲ 271 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۳ء اپنے سامنے مزدوروں کو ہدایات دیتے کہ فلاں کمی پوری کرو، فلاں نقص پیدا ہورہا ہے اس کو ٹھیک کرو۔الغرض آپ نے کالج کی تعمیر پر بڑی محنت کی تھی۔پس یہ ایک فطرتی تقاضا ہے کہ جس چیز سے انسان کو زیادہ پیار ہو اور جس کو وہ اہمیت دے اس پر وہ مسلسل نظر رکھتا ہے۔اس لئے یہ ایک عجیب کشتی تھی کہ اس جیسی کشتی نہ کبھی پہلے بنی، نہ کبھی بعد میں ظاہری صورت میں بنائی گئی اس لئے کہ فرمایا وَاصْعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا اے نوح ! ہم اس کشتی کے اوپر مسلسل نگاہ رکھیں گے۔وَوَحْيِنًا دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ اے نوح! ہم نے تجھے جو ہدایت کی ہے اور جو کاریگری ہم نے تجھے سکھائی ہے اس کے مطابق یہ کشتی بنا۔یہ کاریگری حضرت نوح نے کسی اور سے تو نہیں سیکھی تھی۔کشتی بنانا تو آپ جانتے ہی نہیں تھے۔پس ایک ایک کیل جوٹھونکا گیا اور ایک ایک میخ جو لگائی گئی اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس کو اس طرح رکھو اور اس طرح لگاؤ۔الغرض یہ کشتی مسلسل اللہ تعالیٰ کی آنکھوں کے سامنے اور اس کی وحی کے تابع بنائی جارہی تھی۔اس سے ایک یہ خیال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنی عظیم الشان اور مقدس کشتی جو اپنی نوع میں بے نظیر اور بے مثل ہو ، بعید نہیں کہ اس کا نشان آج کہیں مل جائے۔نسبتا ادنی ادنی چیزیں بھی زمانے نے محفوظ رکھی ہیں۔مٹی کے ڈھیر میں دبی ہوئی Fossilized شکلوں میں مختلف قوموں کی تاریخیں ملتی ہیں اور لکڑی کے بہت پرانے کام بھی ملتے ہیں۔پس یہ کہنا کہ چونکہ کشتی لکڑی کی تھی اس لئے ضرور ضائع ہوگئی ہوگی ، یہ بھی درست نہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے سے پرانے زمانوں کی لکڑی کی بنی ہوئی چیزیں بھی اب دستیاب ہو چکی ہیں۔چنانچہ یہ خیال بہت سے مفکرین اور محققین کو بھی آچکا ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی تلاش مختلف جگہوں پر ہوتی رہی ہے۔کوہ ارارات پر بھی اور بعض دوسری جگہوں پر بھی وقتا فوقتا بعض Expeditions یعنی مہمات اس کشتی کی تلاش میں بھیجی گئی ہیں۔لیکن جن لوگوں نے اس تلاش کرنے کی کوشش کی ان کا جغرافیہ بائیبل پر مبنی تھا اور قرآن کریم جو جغرافیہ بیان کرتا ہے وہ اس سے مختلف ہے جو بائیبل بیان کرتی ہے، اس لئے طبعی بات ہے کہ ان کی ساری کوششیں ناکام ہوئی تھیں اور اب تک ناکام رہی ہیں۔بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی احمدی مہم کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ قرآن کریم کے بیان فرمودہ نقشے اور جغرافیے کے مطابق اس کشتی کو تلاش کرے اور وہ دستیاب ہو جائے۔اگر یہ کشتی دستیاب ہو تو یہ ایک بے نظیر کشتی ہوگی۔