خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 270
خطبات طاہر جلد ۲ 270 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۳ء وہ آیات جن سے میں نے استدلال کیا تھا ان کی میں نے اس وقت تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے نوح کی طرف وحی کی کہ اب تیری قوم میں سے کوئی تجھ پر ایمان نہیں لائے گا سوائے اس کے جو پہلے ایمان لا چکا ہے۔پس اب تو ان پر کسی قسم کا افسوس نہ کر ، حسرت نہ کر۔جو ان کی تقدیر تھی وہ لکھی جاچکی ہے۔یہ جو میں نے کہا دراصل ہر نبی اپنی قوم کے لئے دعا کرنا چاہتا ہے اور کسی حالت میں بھی بددعا نہیں کرنا چاہتا۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے معا بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاصْعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا کہ اے نوح! ہم جانتے ہیں کہ اس خبر کے بعد بھی تیرا دل بے قرار ہوگا اور تو اپنی قوم کے لئے دعا کرنا چاہے گا مگر ہم تجھے اس کی اجازت نہیں دیتے۔وَلَا تُخَاطِنِی فِی الَّذِينَ ظَلَمُوا میں اس قوم کے متعلق کچھ نہ کہہ، اس کے متعلق ہم سے ہرگز کوئی بات نہ کر جنہوں نے ظلم کیا ہے۔إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ کیونکہ ان کی یہ تقدیر کہ یہ غرق کئے جائیں گے لکھی گئی ہے، آخری ہو چکی ہے۔اگر آپ ان آیات کا غور سے مطالعہ کریں تو ان میں اور بھی بہت سے گہرے سبق ملتے ہیں۔فرمایا وَاصْعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا یہاں ایک ایسی کشتی کا ذکر ہے جس کے متعلق دو باتیں اس کو تمام دنیا میں بننے والی کشتیوں سے نمایاں اور ممتاز کر دیتی ہیں۔پہلی یہ ہے کہ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ باغیننا ہماری نگاہ کے سامنے، ہماری نظر کے سامنے یہ کشتی بنا۔ایک مالک کو جو چیز بہت پیاری ہو وہ اسے اپنے سامنے بنواتا ہے لیکن نسبتا کم پیاری یا ایسی چیزیں جن کی اس کو خاص پر واہ نہیں ہوتی ان کی نگرانی ملازموں کے سپر د کر دیتا ہے اور بعض دوسروں کو بھی اس بارہ میں تاکید کر دتیا ہے۔لیکن جس چیز سے اس کو غیر معمولی پیار ہو اور وہ پسند نہ کرے کہ اس کی بناوٹ میں ذراسی بھی کوئی چیز اس کی مرضی کے خلاف ہو جائے اس کو بنوانے کے لئے وہ خود کھڑا ہوتا ہے۔بعض دفعہ بڑے بڑے قیمتی اوقات ا والے لوگ بھی مسلسل کھڑے ہو کر بعض چیزوں کو اپنے سامنے بنواتے ہیں۔مثلاً جب تعلیم الاسلام کالج بنایا جانے لگا تو چونکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ (اس وقت تو آپ خلیفتہ المسیح نہیں تھے ) کو تعلیم سے بڑا پیار تھا اور کالج سے بڑا پیار تھا اس لئے دن رات سردی ہوتی یا گرمی ، موسم کیسا بھی خراب ہوتا آپ اپنا سارا زائد وقت اس کی تعمیر کی نگرانی پر لگایا کرتے۔خود چھت پر کھڑے ہو کر