خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد ۲ 264 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۳ء سیه ساری باتیں کہنے کے بعد پھر حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَنْ لَمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَاران کہ اے میرے اللہ! ان ساری باتوں کو سننے کے بعد انہوں نے انکار کر دیا ہے اور پیروی کے لئے اس کو چنا جس کو اس کے اپنے اموال اور اپنی اولادیں بھی فائدہ نہیں دے سکتیں یعنی ایسے دنیا داروں کو چنا ہے جن کی اولادوں اور جن کے اموال نے ان کو کبھی نفع نہیں پہنچایا ہمیشہ گھاٹوں کے سودے کرتے رہے ہیں۔پس دیکھ بھال کر اور پوری طرح حالات پر نظر رکھتے ہوئے اس قوم نے اچھی چیز کوردکر دیا ہے اور بری چیز کو اختیار کر لیا ہے اور صرف یہی نہیں کہ اپنے لئے برا رستہ اختیار کیا ہے بلکہ وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّاران یہ تو تیرے نام کو مٹانے کے لئے ہر قسم کے مکروں سے کام لے رہے ہیں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات سے گزرنے کے بعد کیا بد دعا کرنی جائز ہے اور کیا اللہ تعالیٰ مومن بندوں سے یہی توقع رکھتا ہے کہ جب وہ اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیں تو پھر دعا میں بددعا کے سوا کچھ نہ کریں؟ حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا سے بعض لوگوں کو یہ غلط نہی ہوتی ہے جسے میں دور کرنا چاہتا ہوں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے قوم پر جو بد دعا کی وہ اپنے ارادہ سے نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کی۔چنانچہ قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ اس واقعہ کا ذکر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت نوح علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ تم اپنی قوم کے لئے جو چاہو کر لوجتنی چاہو دعا ئیں کرو میں جو عالم الغیب خدا ہوں تمہیں بتا رہا ہوں کہ اس قوم کے مقدر میں اب کوئی ہدایت نہیں ، اب سوائے فاسق فاجر بچوں کے یہ قوم اور بچے پیدا نہیں کرسکتی۔تب حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کی کہ اے خدا! یہ دنیا پھر اس لئے تو پیدا نہیں کی گئی کہ یہاں فسق و فجور کو رواج دیا جائے اور منکرین اور ملحدین پیدا ہوں۔اگر تیرے علم میں یہ بات آچکی ہے کہ اس قوم میں ایک بھی مومن پیدا نہیں ہوسکتا تو پھر ان کو ہلاک کر دے، اب یہ دنیا میں زندہ رہنے کے اہل نہیں رہے۔یہ تھا اس دعا کا فلسفہ جو حضرت نوح علیہ السلام نے کی تھی۔جہاں تک انبیاء علیہم السلام کی حالت کا تعلق ہے ان کے دل کی حالت تو یہ ہوتی ہے کہ اکثر اوقات سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ حکم دے وہ اس علم کے باوجود کہ قوم ہلاک ہونے والی ہے اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ قوم ہلاک ہو جائے۔چنانچہ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ میں جہاں نصیحت اور دعاؤں کا