خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 21
خطبات طاہر جلد ۲ 21 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء معاملہ پر قرآن کریم کس تفصیل کے ساتھ بحث اٹھاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا رنگ قبول کرنے سے پہلے جو بیماریاں اس راہ میں حائل ہو جاتی ہیں وہ دور کرنی ضروری ہیں۔جب تک پہلے وہ داغ صاف نہ ہوں اور وہ چکنائی نہ اترے جو طبیعتوں پر چڑھی ہوئی ہے اور وہ بنیادی وجوہات دور نہ ہوں جن کے نتیجہ میں انسان نصیحت قبول کرنے سے عاری رہ جاتا ہے اس وقت تک نصیحت مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی۔چنانچہ اس پہلو پر میں آج مختصراً قرآن کریم کی چند آیات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔پہلی بات قابل توجہ یہ ہے کہ بہت سے نصیحت نہ قبول کر نیوالے اس وجہ سے نصیحت کے نیک اثر سے محروم رہ جاتے ہیں کہ ان کے نفس بہانے بہت پیش کرتے ہیں۔ان کو اپنے دفاع کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے اور جب بھی انہیں کوئی بات کہے ان کو ایک Inferiority Complex یعنی احساس کمتری دل میں پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات جو باہر سے کر رہا ہے گویا مجھے ادنی سمجھ رہا ہے اور مجھے یہ بتانا چاہتا ہے کہ تمہارے اندر کمزوریاں ہیں اس لئے میں بھی اپنی ہر کمزوری کا دفاع کروں گا۔چنانچہ وہ اپنے نفس سے بھی جھوٹ بول رہا ہوتا ہے اور اس کہنے والے کے مقابل پر بھی جھوٹ بول رہا ہوتا ہے اور اتنے عذر تلاش کرتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ اَلْقَى مَعَاذِيْرَهُ ) (القیامہ (۱۲) بڑے لمبے چوڑے عذر یوں پھوٹنے لگتے ہیں جس طرح پہاڑوں سے چشمے ابلتے ہیں اور وہ خود بھی بعض دفعہ ان باتوں سے ناواقف ہوتا ہے۔اگر غور کرے تو ضرور ان کی حقیقت کو پالے لیکن اکثر انسان غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ وہ جو باتیں کہہ رہے ہیں ان میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں۔چنانچہ اس ذکر کے بعد کہ بلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيْرَةٌ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيْرَهُ (القيامة : ۱۶،۱۵) قرآن کریم نہایت ہی پیارے رنگ میں ایسے عذر پیش کر نیوالوں کو سمجھاتا ہے۔کہتے ہیں دائی سے بھی عیوب کبھی چھپ سکتے ہیں۔وہ کہتی ہے میں تو تمہارے پوتڑوں تک سے واقف ہوں۔لیکن قرآن کریم اس سے بھی بہت پہلے سے بات شروع کرتا ہے فرماتا ہے: اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَاكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ ۚ فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم:۳۳)